1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. عبادات
  3. نماز
  4. جمعہ و عیدین

جمعہ کے لیے ایک اذان اور خطبہ پر اکتفا کرنا / کنٹینر مسجد میں جگہ کی تنگی کی بنا پر دو جماعت کرانا

سوال

1- جمعہ کے لیے ایک اذان اور ایک خطبہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

2- میں جس جگہ جاب کرتا ہوں وہاں پہ ایک چھوٹی سی کنٹینر مسجد بنی ہوئی ہے۔ ظہر کے وقت اس میں صرف 25 سے 30 کے قریب افراد نماز پڑھ سکتے ہیں۔ اس کے بعد بقایا افراد ایک دوسری جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لیتے ہیں۔ کیا اسی طرح دوسری جماعت کی نماز ہوجاتی ہے؟

جواب

1-  جمعہ کی نماز کے صحیح ہونے کے لیے خطبہ کا ہونا شرط ہے۔  اور دو خطبوں کا ہونا اور اسی طرح جمعہ کے لیے دو اذانیں دینا مسنون اور سنتِ متوارثہ ہے،  جمعہ میں ایک خطبہ اور ایک اذان پر اکتفا  کرنا سنت متوارثہ کے خلاف ہے، اس لیے درست نہیں ہے۔ اگر وقت مختصر ہو تو دو خطبے مختصراً کہہ دیے جائیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 148):
"(قوله: ويسن خطبتان) لاينافي ما مر من أن الخطبة شرط؛ لأن المسنون هو تكرارها مرتين، والشرط إحداهما". 

2۔ کنٹینر پر بنی ہوئی مسجد چوں کہ عارضی مصلی ہوتی ہے، اس لیے اس میں جگہ کی تنگی کی وجہ سے   ایک جماعت کرالینے کے بعد دوسری جماعت کرانا بلاکراہت جائز ہے۔  فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144008200874
تاریخ اجراء :10-05-2019

PDF ڈاؤن لوڈ