1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. ممنوعات و مباحات
  3. علاج / معالجہ
  4. اعضاء کی پیوندکاری

انسانی جگر کی پیوندکاری کو خون پر قیاس کرنا

سوال

انسانی جگر کے عطیہ کا حکم بحوالہ  فتویٰ نمبر: 144103200291۔ مزید اس میں سوال یہ ہے:

کیا جگر کو خون پر قیاس کر سکتے ہیں کہ جس طرح خون دینا جائز ہے، اسی طرح جگر کا کچھ حصہ بھی، کیوں کہ یہ بھی بڑھتا رہتا ہے؟

جواب

خون انسانی جز ہے، اور جب وہ  جسم سے نکل جائے تو وہ بھی نجس اور ناپاک ہوتا ہے، اس کا اصل تقاضا یہ ہے کہ  اس کی بھی کسی دوسرے کے جسم میں منتقلی حرام ہو، لیکن اضطراری حالات اور ضرورتِ شدیدہ کے موقعے پر  فقہاءِ  نے عورت کے دودھ پر قیاس کرکے  اس کے استعمال کی اجازت دی ہے، اس لیے اس کو دوسرے انسان کے بدن میں منتقل کرنے کے لیے  اعضاءِ انسانی میں کانٹ چھانٹ کی ضرورت پیش نہیں آتی، بلکہ انجکشن  کے ذریعہ  خون نکالا اور دوسرے بدن میں ڈالا جاتا ہے،  اس لیے اس کی مثال  انسانی دودھ کی طرح ہوگئی جو انسان کے بدن سے بغیر کانٹ چھانٹ کے نکلتا  ہے، اور شریعتِ اسلام نے بچہ کی ضرورت  کے پیش نظر  انسانی دودھ  ہی کو  اس کی غذا قرار دیا ہے۔  نیز  بچوں کے علاوہ بڑوں  کے لیے بھی ضرورت کے وقت دوا  اور علاج کی غرض سے  عورت کے دودھ  کو فقہاءِ کرام نے جائز قرار دیا ہے، اس لیے جزءِ انسانی ہونے کی حیثیت سے خون کو انسانی دودھ پر قیاس کیا جاتا ہے  کہ ضرورت کے موقع پر اس کا استعمال جائز ہے،  البتہ اس کی نجاست  کے پیشِ نظر اس کے استعمال کا حکم وہی ہے جو دوسری حرام اور نجس چیزوں کے استعمال کا ہے یعنی:

1۔۔ جب مریض اضطراری حالت میں ہو ، اور ماہر ڈاکٹر کی نظر میں خون دیے بغیر اس کی جان بچانے کا کوئی راستہ نہ ہوتو خون دینا جائز ہے۔

2۔۔ جب ماہر ڈاکٹر کی نظر میں خون دینے کی حاجت ہو، یعنی مریض کی ہلاکت کا خطرہ نہ ہو، لیکن اس کی رائے میں خون دیے بغیر صحت کا امکان نہ ہو ، تب بھی خون دینا جائز ہے۔

3۔۔ جب خون نہ دینے کی صورت میں  ماہر ڈاکٹر کے نزدیک مرض کی طوالت کا  اندیشہ  ہو، ا س  صورت میں   خون دینے کی گنجائش ہے، مگر  اجتناب بہتر ہے۔

4۔۔ جب خون دینے سے محض منفعت و زینت اور قوت بڑھانا    مقصود ہو،  ایسی  صورت میں خون دینا جائز نہیں ہے۔

جہاں تک جگر کا مسئلہ ہے تو اس سلسلے میں یہ ملحوظ رہے کہ: 

1- خون اور انسانی اعضاء  میں فرق  ہے،  خون انسانی اجزاء میں سے ضرور  ہے، لیکن اعضاء میں سے نہیں ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ انسان جب مرجاتا ہے، اس کے تمام اعضاء پہلے جس طرح موجود ہوتے ہیں،  مرنے کے بعد بھی تمام اعضاءموجود ہوتے ہیں،  بخلاف خون کے ؛ کیوں کہ خون جزءِ مستحکم نہ ہونے کی وجہ سے پانی بن جاتا ہے، اس کا نام و نشان باقی نہیں رہتا ۔

 دوسری طرف ”جگر“ انسانی اعضاء میں داخل ہے، اور عضو کو جز پر قیاس نہیں کیا جاسکتا ہے۔

2- خون خود  ”مقیس“ ہے،  یعنی اس کو انسانی دودھ پر قیاس کیا گیا ہے، اور انسانی دودھ ”مقیس علیہ“ ہے،  مقیس پر دوسری چیز کو قیاس نہیں کیا جاسکتا ، اس لیے جگر کو خون پر قیاس نہیں کیا جاسکتا ہے۔

3-  جگر میں چیر پھاڑ، کانٹ چھانٹ وغیرہ جیسی اور بھی کئی خرابیاں کا موجود ہونا بھی واضح ہے۔

لہذا انسانی جگر کی دوسرے انسان کے جسم میں  پیوندکاری جائز نہیں ہے۔

 الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) میں ہے:

"(وَلَمْ يُبَحْ الْإِرْضَاعُ بَعْدَ مَوْتِهِ) لِأَنَّهُ جَزْءُ آدَمِيٍّ وَالِانْتِفَاعُ بِهِ لِغَيْرِ ضَرُورَةٍ حَرَامٌ عَلَى الصَّحِيحِ، شَرْحُ الْوَهْبَانِيَّةِ. وَفِي الْبَحْرِ: لَايَجُوزُ التَّدَاوِي بِالْمُحَرَّمِ فِي ظَاهِرِ الْمَذْهَبِ، أَصْلُهُ بَوْلُ الْمَأْكُولِ كَمَا مَرَّ.

(قَوْلُهُ: وَفِي الْبَحْرِ) عِبَارَتُهُ: وَعَلَى هَذَا أَيْ الْفَرْعِ الْمَذْكُورِ لَا يَجُوزُ الِانْتِفَاعُ بِهِ لِلتَّدَاوِي. قَالَ فِي الْفَتْحِ: وَأَهْلُ الطِّبِّ يُثْبِتُونَ لِلَبَنِ الْبِنْتِ أَيْ الَّذِي نَزَلَ بِسَبَبِ بِنْتٍ مُرْضِعَةٍ نَفْعًا لِوَجَعِ الْعَيْنِ. وَاخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ فِيهِ، قِيلَ: لَايَجُوزُ، وَقِيلَ: يَجُوزُ إذَا عَلِمَ أَنَّهُ يَزُولُ بِهِ الرَّمَدُ، وَلَايَخْفَى أَنَّ حَقِيقَةَ الْعِلْمِ مُتَعَذِّرَةٌ، فَالْمُرَادُ إذَا غَلَبَ عَلَى الظَّنِّ وَإِلَّا فَهُوَ مَعْنَى الْمَنْعِ اهـ. وَلَا يَخْفَى أَنَّ التَّدَاوِي بِالْمُحَرَّمِ لَا يَجُوزُ فِي ظَاهِرِ الْمَذْهَبِ، أَصْلُهُ بَوْلُ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ فَإِنَّهُ لَا يُشْرَبُ أَصْلًا. اهـ. (قَوْلُهُ: بِالْمُحَرَّمِ) أَيْ الْمُحَرَّمُ اسْتِعْمَالُهُ طَاهِرًا كَانَ أَوْ نَجَسًا ح (قَوْلُهُ: كَمَا مَرَّ) أَيْ قُبَيْلَ فَصْلِ الْبِئْرِ حَيْثُ قَالَ: فَرْعٌ اُخْتُلِفَ فِي التَّدَاوِي بِالْمُحَرَّمِ. وَظَاهِرُ الْمَذْهَبِ الْمَنْعُ كَمَا فِي إرْضَاعٍ الْبَحْرِ، لَكِنْ نَقَلَ الْمُصَنِّفُ ثَمَّةَ وَهُنَا عَنْ الْحَاوِي: وَقِيلَ: يُرَخَّصُ إذَا عَلِمَ فِيهِ الشِّفَاءَ وَلَمْ يَعْلَمْ دَوَاءً آخَرَ كَمَا خُصَّ الْخَمْرُ لِلْعَطْشَانِ وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى. اهـ. ح". (3 / 211، باب الرضاع، ط: سعید)

الفتاوى الهندية (5/ 355):
"ولا بأس بأن يسعط الرجل بلبن المرأة ويشربه للدواء، وفي شرب لبن المرأة للبالغ من غير ضرورة اختلاف المتأخرين، كذا في القنية". 
فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144103200426
تاریخ اجراء :17-11-2019

فتوی پرنٹ