1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. باہمی حقوق
  4. اولاد کے حقوق

طلاق کے بعد پانچ سالہ بیٹی کی پرورش

سوال

میں اپنی بیوی کو  طلاق دے چکا ہوں اور میری پانچ سال کی بیٹی ہے اور وہ میری بیوی کے پاس ہے،  اور اب میں اپنی بیٹی کو اپنے پاس لینا چاہتا ہوں، اس سلسلے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

جواب

میاں بیوی میں علیحدگی کے بعد لڑکیوں کی پرورش کا حق  نو سال تک اس کی والدہ کو حاصل ہے؛  لہذا بچی کی عمر نو سال ہونے تک شرعاً آپ اپنی بیٹی کو مانگنے کا حق نہیں رکھتے، البتہ وہ بخوشی آپ کے حوالہ کردیں تو کرسکتی ہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

 "(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء، وقدر بسبع، وبه يفتى؛ لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبراً وإلا لا، (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية. ولو اختلفا في حيضها فالقول للأم، بحر بحثاً.

وأقول: ينبغي أن يحكم سنها ويعمل بالغالب. وعند مالك، حتى يحتلم الغلام، وتتزوج الصغيرة ويدخل بها الزوج عيني (وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع، وبه يفتى".(3/566، باب الحضانة، ط:سعید) فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144012201480
تاریخ اجراء :03-10-2019

PDF ڈاؤن لوڈ