1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. معاملات
  3. سود / بینکاری / انشورنس / شیئرز
  4. قرض کے احکام

گھر خریدنے کے لیے بینک سے قرض لینا

سوال

کیا اپنا گھر خریدنے کے لیے بینک سے لون (قرض) لے سکتے ہیں؟ کیوں کہ ہم کرایہ کے مکان میں رہتے ہیں اور کچھ بچتا نہیں کہ ہم ذاتی گھر کے لیے پیسے جمع کرسکیں۔

جواب

بینک  مختلف کاموں کے لیے جو قرضہ دیتے ہیں وہ سودی قرضہ ہوتا ہے،   جس طرح سودی قرضہ دینا حرام ہے اسی طرح سودی قرضہ لینا بھی حرام ہے، اور حدیث شریف میں سود لینے اور دینے والے پر لعنت وارد ہوئی ہے، اس لیے آپ اپنا ذاتی گھر خریدنے کے لیے سودی قرضہ لینے کے بجائے کوئی دوسرا  جائز متبادل راستہ (مثلاً غیر سودی قرضہ ) اختیار کریں، اور جب تک غیر سودی قرضہ نہ مل سکے اس وقت تک کرائے کے مکان میں ہی گزارا  کرنے کی کوشش کریں۔ فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144106200043
تاریخ اجراء :28-01-2020

PDF ڈاؤن لوڈ