1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. ممنوعات و مباحات
  3. تفریح / کھیل
  4. ٹی وی / وی سی آر / سینما / انٹرنیٹ/تصویر سازی

موبائل سے سیلفی لینا اور شناختی کارڈ کے لیے تصویر بنانا

سوال

تصویر بنوانا NICکے لیےکیساہے اور موبائل سے سیلفی لینا؟ ان دونوں کی وضاحت مطلوب ہے، اور تصاویر بنوانے پر کیا وعید  ہے؟

جواب

 کسی شدید ضرورت کے بغیر جان دار  کی تصویر بنانا   حرام اور کبیرہ گناہ ہے،خواہ تصویر کسی بھی قسم کی ہو، کپڑے یا کاغذ پر بنائی جائے یا در و دیوار پر، قلم سے بنائی جائے یا کیمرے سے، چناچہ حدیثِ مبارک  میں  ہے:

"وعن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أشد الناس عذاباً يوم القيامة الذين يضاهون بخلق الله»".(مشكاة المصابيح (2/385، باب التصاویر، ط: قدیمي) (صحیح البخاري (2/880، ط: قدیمي)

ترجمہ: حضرت عائشہ ؓ  ، رسول کریمﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ  آپ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن سب لوگوں سے زیادہ سخت عذاب  ان لوگوں کو ہوگا جو تخلیق میں اللہ تعالیٰ کی مشابہت اختیار کرتے ہیں۔ (مظاہر حق جدید(4/229)  ط: دارالاشاعت)

ایک اور حدیثِ مبارک  میں ہے:

"عن عبد الله بن مسعود قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «أشد الناس عذاباً عند الله المصورون»". (مشكاة المصابيح (2/385، باب التصاویر، ط: قدیمي)(الصحیح لمسلم (3/1667،  برقم: 2107، ط: دار إحیاء التراث العربي)

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریمﷺ  کویہ فرماتے ہوئے سنا کہ ”اللہ تعالیٰ کے ہاں سخت ترین عذاب کا مستوجب، مصور (تصویر بنانے والا)ہے“۔(مظاہر حق جدید(4/230)  ط: دارالاشاعت)

ایک اور حدیثِ مبارک  میں ہے:

"عن ابن عباس قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «كل مصور  في النار يجعل له بكل صورة صورها نفسا فيعذبه في جهنم".(مشكاة المصابيح (2/385، باب التصاویر، ط: قدیمي)

ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ  میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے  ہوئے سنا کہ” ہر مصور دوزخ میں ڈالا جائے گا، اور اس کی بنائی  ہوئی ہر تصویر کے بدلے ایک شخص پیدا کیا جائے گا جو تصویر بنانے والے کو دوزخ میں عذاب دیتا رہے گا“۔(مظاہر حق جدید(4/230)  ط: دارالاشاعت)

لہذا موبائل سے سیلفی لینا ناجائز ہے، جہاں تک شناختی کارڈ کے لیے تصویر بنانے کا مسئلہ ہے تو وہ قانونی مجبوری کے تحت بنائی جاتی ہے، اس شدید مجبوری کی وجہ سے اس تصویر کا گناہ شناختی کارڈ کے لیے تصویر بنانے والے کو نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144105200082
تاریخ اجراء :30-12-2019

PDF ڈاؤن لوڈ