1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. علوم و فنون
  3. حدیث / سنت
  4. حدیث

ماں کو پانی پلانے کے لیے رات بھر انتظار کرنے والی روایت کی تحقیق

سوال

وہ کون سے صحابی تھے جنہوں نے والدہ کو پانی پلانے کے لیے صبح تک انتظار کیا؟ 

جواب

کسی صحابی کا ایسا واقعہ تو ہمارے علم میں نہیں، البتہ پچھلی امتوں کے تین لوگوں کا ایک تفصیلی واقعہ حدیث کی کئی کتابوں میں مذکور ہے، جو صحیح اور ثابت ہے۔

یہ تین افراد ایک غار میں تھے  اور غار کا دہانا ایک چٹان کے لڑھکنے سے بند ہوگیا اور  تینوں اس میں پھنس گئے تھے، پھر انہوں نے اپنے اپنے نیک اعمال ذکر کرکے دعا کی تو اللہ تعالی نے انہیں نجات عطا فرمادی تھی، ان میں ایک شخص کا عمل یہ تھا کہ وہ دن بھر بکریاں وغیرہ چرایا کرتا تھا اور شام میں گھر آکر ان کا دودھ دوہ کر پہلے اپنے والدین اور پھر بیوی بچوں کو پلایا کرتا تھا، ایک دن اسے واپسی میں تاخیر ہوگئی اور جب گھر پہنچا تو والدین انتظار کرتے کرتے سو چکے تھے، اس شخص نے ساری رات والدین کا انتظار کیا اور اپنے بچوں کو بھی دودھ نہ پلایا، اس عمل کے توسل سے اس نے دعا کی تو وہ دعا قبول ہوئی۔اسی طرح دیگر دونوں افراد اپنے بعض اعمال کے توسل سے دعا کی تو ان کی دعائیں بھی قبول ہوئیں اور غار سے چٹان ہٹ گئی، یوں اللہ تعالی نے ان تینوں کو نجات عطا فرمائی۔

یہ واقعہ حدیثُ الغار کے عنوان سے حدیث کی کئی کتابوں میں ملتا ہے۔ 

"عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " بَيْنَمَا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ يَتَمَشَّوْنَ أَخَذَهُمُ الْمَطَرُ، فَأَوَوْا إِلَى غَارٍ فِي جَبَلٍ، فَانْحَطَّتْ عَلَى فَمِ غَارِهِمْ صَخْرَةٌ مِنَ الْجَبَلِ، فَانْطَبَقَتْ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : انْظُرُوا أَعْمَالًا عَمِلْتُمُوهَا صَالِحَةً لِلَّهِ، فَادْعُوا اللَّهَ تَعَالَى بِهَا، لَعَلَّ اللَّهَ يَفْرُجُهَا عَنْكُمْ. فَقَالَ أَحَدُهُمُ : اللَّهُمَّ، إِنَّهُ كَانَ لِي وَالِدَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ وَامْرَأَتِي، وَلِي صِبْيَةٌ صِغَارٌ أَرْعَى عَلَيْهِمْ، فَإِذَا أَرَحْتُ عَلَيْهِمْ حَلَبْتُ، فَبَدَأْتُ بِوَالِدَيَّ فَسَقَيْتُهُمَا قَبْلَ بَنِيَّ، وَأَنَّهُ نَأَى بِي ذَاتَ يَوْمٍ الشَّجَرُ، فَلَمْ آتِ حَتَّى أَمْسَيْتُ، فَوَجَدْتُهُمَا قَدْ نَامَا، فَحَلَبْتُ كَمَا كُنْتُ أَحْلُبُ، فَجِئْتُ بِالْحِلَابِ فَقُمْتُ عِنْدَ رُءُوسِهِمَا، أَكْرَهُ أَنْ أُوقِظَهُمَا مِنْ نَوْمِهِمَا، وَأَكْرَهُ أَنْ أَسْقِيَ الصِّبْيَةَ قَبْلَهُمَا، وَالصِّبْيَةُ يَتَضَاغَوْنَ عِنْدَ قَدَمَيَّ، فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ دَأْبِي وَدَأْبَهُمْ حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ لَنَا مِنْهَا فُرْجَةً نَرَى مِنْهَا السَّمَاءَ. فَفَرَجَ اللَّهُ مِنْهَا فُرْجَةً، فَرَأَوْا مِنْهَا السَّمَاءَ. وَقَالَ الْآخَرُ : اللَّهُمَّ، إِنَّهُ كَانَتْ لِيَ ابْنَةُ عَمٍّ أَحْبَبْتُهَا كَأَشَدِّ مَا يُحِبُّ الرِّجَالُ النِّسَاءَ، وَطَلَبْتُ إِلَيْهَا نَفْسَهَا فَأَبَتْ حَتَّى آتِيَهَا بِمِائَةِ دِينَارٍ، فَتَعِبْتُ حَتَّى جَمَعْتُ مِائَةَ دِينَارٍ، فَجِئْتُهَا بِهَا فَلَمَّا وَقَعْتُ بَيْنَ رِجْلَيْهَا قَالَتْ : يَا عَبْدَ اللَّهِ، اتَّقِ اللَّهَ، وَلَا تَفْتَحِ الْخَاتَمَ إِلَّا بِحَقِّهِ. فَقُمْتُ عَنْهَا، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ لَنَا مِنْهَا فُرْجَةً. فَفَرَجَ لَهُمْ، وَقَالَ الْآخَرُ : اللَّهُمَّ، إِنِّي كُنْتُ اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا بِفَرَقِ أَرُزٍّ، فَلَمَّا قَضَى عَمَلَهُ قَالَ : أَعْطِنِي حَقِّي. فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ فَرَقَهُ، فَرَغِبَ عَنْهُ، فَلَمْ أَزَلْ أَزْرَعُهُ حَتَّى جَمَعْتُ مِنْهُ بَقَرًا وَرِعَاءَهَا، فَجَاءَنِي، فَقَالَ : اتَّقِ اللَّهَ، وَلَا تَظْلِمْنِي حَقِّي. قُلْتُ : اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الْبَقَرِ وَرِعَائِهَا فَخُذْهَا. فَقَالَ : اتَّقِ اللَّهَ، وَلَا تَسْتَهْزِئْ بِي. فَقُلْتُ : إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ بِكَ، خُذْ ذَلِكَ الْبَقَرَ وَرِعَاءَهَا. فَأَخَذَهُ فَذَهَبَ بِهِ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ لَنَا مَا بَقِيَ. فَفَرَجَ اللَّهُ مَا بَقِيَ ".(صحيح مسلم،  كِتَابٌ : الرِّقَاقُ ، بَابٌ : قِصَّةُ أَصْحَابِ الْغَارِ الثَّلَاثَةِ، رقم الحديث: ٢٧٤٣) فقط والله اعلم 


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144106200237
تاریخ اجراء :02-02-2020

PDF ڈاؤن لوڈ