1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. نکاح / طلاق
  4. محرمات

بہنوئی کا سالی کے رشتہ میں روکاوٹ بننا

سوال

میری بڑی بہن کی گیارہ سال قبل شادی ہوئی ہے،  ان کی کوئی اولاد نہیں، مسئلہ میرے بہنوئی میں ہے، وہ ہم سب کے سگے بھائی جیسے تھے،  امی پاپا انہیں سگا بیٹا مانتے ہیں، مگر وہ ہم سب کو دھوکا دے رہے ہیں،  اور یہ کوئی نہیں جانتا ہے کہ وہ میری دوسرے نمبر والی بہن کو پسند کرنے لگے ہیں، اور پیار بھرے میسجز کرتے ہیں، اور جب اس نے ان کو منع کر دیا ہے تو وہ ایکسٹریم ڈپریشن میں چلے گئے ہیں۔

میری مذکورہ بہن کا جو بھی رشتہ آتا ہے، اس میں  میری امی کو ہزار نقص نکال کر بتا دیتے ہیں، اور میری بہن کو بلیک میل کرتے ہیں کہ اگر تم نے ہاں کی تو میں زہر کھا لوں گا،  اور کسی کو بھی بتایا تو میں زہر کھالوں گا۔

اب میری یہ بہن بڑی بہن کا گھر بچانے کے لیے ہر رشتہ منع کر دیتی تھی، اور ہم سب اسے غلط سمجھتے تھے،  ڈیڑھ  سال بعد جا کر اس نے مجھے یہ بات بتائی ہے، اب ہم کیا کریں؟ ہمیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ اگر ہم سب کو یہ بتاتے ہیں تو بڑی بہن کا گھر برباد ہو جائے گا،  اور میرے والدین تو یہ برداشت نہیں کرپائیں گے، پاپا دل کے مریض ہیں ، اور بد نامی الگ ہوگی۔

ہر دفعہ رشتہ ہوتے ہوتے میری بہن کی بات ختم ہوجاتی تھی،  سب یہی کہتے کہ بندش کرائی ہوئی ہے، مگر بہنوئی ہی اس کے ذمہ دار ہیں، یہ کسی کو نہیں معلوم تھا،  برائے کرم بتائیں ہم دونوں بہنیں کیا کریں؟ میں بھی شادی شدہ ہوں، میرا  ایک بیٹا بھی ہے۔

ہم چپ رہتے ہیں تو  وہ بہنوئی سب کو دھوکا دیتے رہیں گے، اور میری بہن کی شادی نہیں ہوسکے گی،  اور بتا دیا تو  میری بڑی بہن کا گھر ٹوٹ جائے گا،  اور میرے ماں باپ کی بدنامی ہوگی، کیوں کہ بہنوئی کہتے ہیں کہ زہر کھا لوں گا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ کی مذکورہ بہن کو  چاہیے کہ وہ مذکورہ بہنوئی سے رابطہ منقطع کردے، اور ان سے پردہ کرنے کا اہتمام کرے، میسجز پر بالکل بات نہ کرے، اور اب جو بہتر رشتہ آئے، اس پر ہاں کہہ دے، رشتہ میں بالکل تاخیر نہ کرے، اور  زہر کھانے اور سب کو بتانے کی دھمکی کی بھی پرواہ نہ کرے اور وہ چلتے پھرتے  درج ذیل دعاؤں کا اہتمام رکھیں، ان شاء اللہ العزیز وہ شخص کچھ نہیں کرسکے گا:

1- "اَللّٰهُمَّ خِرْلِيْ وَ اخْتَرْلِيْ". 

2- "اَللّٰهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُوْرِهِمْ وَ نَعُوْذُبِكَ مِنْ شُرُوْرِهِمْ".  فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144106200341
تاریخ اجراء :04-02-2020

PDF ڈاؤن لوڈ