1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. معاملات
  3. وراثت / وصیت
  4. ورثاء اور ان کے حصص

مرحومہ کے بھتیجوں کے لیے میراث

سوال

ایک عورت کا انتقال ہوا اور اس کے اصول اور فروع میں کوئی نہیں ہیں، نا ہی اس کا شوہر اور اولاد ہے۔ نہ ہی اس کی بہن ہے۔ اب وراثت تو بھائی کی طرف جائے گی۔ پوچھنا یہ تھا کہ جو اس کے بھائی اس کے انتقال سے پہلے انتقال کر گئے (ان کی اولاد کو)اس عورت کی وراثت سے کچھ ملے گا؟

جواب

بصورتِ مسئولہ اگر مرحومہ کی وفات کے وقت اس کا کوئی بھائی زندہ ہو تو جو بھائی مرحومہ  سے پہلے انتقال کرگئے ان کا یا ان کی اولاد کا مرحومہ کی وراثت میں سے کچھ حصہ نہیں ہوگا۔

"ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف: جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل". (فتاوی شامی، ۶/۷۷۴، سعید)

"وللإرث شروط ثلاثة … ثانيها: تحقق حياة الوارث بعد موت المورث". (الموسوعة الفقهية الکویتية ، 3 / 22، دار السلاسل) فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144106200426
تاریخ اجراء :06-02-2020

PDF ڈاؤن لوڈ