1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. معاملات
  3. سود / بینکاری / انشورنس / شیئرز
  4. قرض کے احکام

ایزی پیسہ کیش بیک

سوال

ایزی پیسہ میں ہر ایزی لوڈ اور ٹرانزیکشن پر کچھ رقم کیش بیک کی صورت میں دی جاتی ہے،  کیا یہ رقم لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

مذکورہ رقم قرض کے بدلہ میں ملنے والا نفع ہے جو کہ شرعاً سود ہے؛ لہذا یہ رقم لینا اور اس کا استعمال کرنا، دونوں ناجائز اور حرام ہے۔ فقط واللہ اعلم

تفصیل کے لیے جامعہ کا فتوی یہاں ملاحظہ ہو :

ایزی پیسہ کیش بیک


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144106200415
تاریخ اجراء :06-02-2020

PDF ڈاؤن لوڈ