1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. عبادات
  3. نماز
  4. جماعت / امامت

دو رکعات رہ جائیں تو نماز کیسے پوری کریں؟

سوال

اگر کسی شخص سے نماز میں دو رکعات رہ گئی ہوں تو وہ اپنی بقیہ نما زکیسے پوری کرے ؟

جواب

جس شخص کی امام سے دو رکعات چھوٹ گئی ہوں تو اسے چاہیے کہ امام کو جس رکن میں پائے تکبیرِ تحریمہ کہہ کر نماز کی جماعت میں شامل ہوجائے، اور تکبیرِ تحریمہ کہنے کے بعد ثناء پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ امام کے دونوں سلام پھیرنے کے بعد اپنی بقیہ نماز اس طرح مکمل کرے  کہ مغرب کے علاوہ دیگر نمازوں میں (جس کی دو رکعت جماعت سے رہ گئی ہوں وہ) امام کے سلام کے بعد کھڑے ہوکر پہلے ثناء،  پھر سورۂ فاتحہ، فاتحہ  کے بعد کوئی سورت پڑھ کر رکوع اور سجدہ کرے، پھر قعدہ کے لیے بیٹھے بغیر دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہوکر دوسری رکعت میں بھی سورۂ فاتحہ اور اس کے بعد سورت پڑھ کر حسبِ معمول نماز مکمل کرلے۔ 

اور اگر مغرب کی نماز میں دو رکعت چھوٹ جائیں تو امام کے سلام کے بعد کھڑے ہوکر پہلی رکعت میں ثناء اور سورۂ فاتحہ اور سورت کی تلاوت کے بعد رکوع و سجدہ کرکے قعدہ میں بیٹھے، (یہ اس کی مجموعی طور پر دوسری رکعت ہوگی، اور اس کا یہ قعدہ ’’قعدۂ اولیٰ‘‘  کہلائے گا) تشہد پڑھتے ہی کھڑے ہوکر تیسری رکعت (جو چھوٹنے والی دوسری رکعت ہوگی) ادا کرے، اس میں بھی سورۂ فاتحہ اور سورت کی تلاوت کرے اور بقیہ نماز حسبِ معمول مکمل کرلے۔ 

الفتاوى الهندية میں ہے:

’’(منها) أنه إذا أدرك الإمام في القراءة في الركعة التي يجهر فيها لايأتي بالثناء، كذا في الخلاصة. هو الصحيح، كذا في التجنيس. وهو الأصح، هكذا في الوجيز للكردري. سواء كان قريباً أو بعيداً أو لايسمع لصممه، هكذا في الخلاصة. فإذا قام إلى قضاء ما سبق يأتي بالثناء ويتعوذ للقراءة، كذا في فتاوى قاضي خان والخلاصة والظهيرية‘‘. (١/ ٩٠)

الدر المختارمیں ہے:

"ويقضي أول صلاته في حق قراءة، وآخرها في حق تشهد؛ فمدرك ركعة من غير فجر يأتي بركعتين بفاتحة وسورة وتشهد بينهما، وبرابعة الرباعي بفاتحة فقط، ولايقعد قبلها".

و في الرد: "وفي الفيض عن المستصفى: لو أدركه في ركعة الرباعي يقضي ركعتين بفاتحة وسورة، ثم يتشهد، ثم يأتي بالثالثة بفاتحة خاصة عند أبي حنيفة. وقالا: ركعة بفاتحة وسورة وتشهد، ثم ركعتين أولاهما بفاتحة وسورة، وثانيتهما بفاتحة خاصة اهـ. وظاهر كلامهم اعتماد قول محمد". (1/ 596، ط: سعید ) فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144106200405
تاریخ اجراء :06-02-2020

PDF ڈاؤن لوڈ