1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. معاملات
  3. وراثت / وصیت
  4. ورثاء اور ان کے حصص

بیوہ ، 1 بیٹے اور دو بیٹیوں کے درمیان میراث کی تقسیم

سوال

ایک شخص کا انتقال ہوا ہے، اس کا متروکہ گھر ہے جو 3 کروڑ 20 لاکھ میں فروخت ہوا ہے، اس کے ورثاء میں ایک بیوہ، ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں. ان کے درمیان تقسیم کیسے کی جائے؟ واضح رہے کہ میت کے والدین کا میت سے پہلے ہی انتقال ہوچکا ہے.

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ میں سے مرحوم کے   حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے اور اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرضہ (مثلاً بیوی کا مہر وغیرہ) ہو تو قرضہ کی ادائیگی کے بعد، اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال میں سے وصیت کو نافذ کرنے کے بعد باقی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ  کو 32حصوں میں تقسیم کر کے اس میں سے 4 حصے مرحوم کی بیوہ کو، 14 حصے مرحوم کے بیٹے کو اور 7  حصے مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔  یعنی تین کروڑ بیس لاکھ میں سے چالیس لاکھ روپے مرحوم کی بیوہ کو، ایک کروڑ چالیس لاکھ روپے مرحوم کے بیٹے کو اور ستر لاکھ روپے مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔ فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144106200412
تاریخ اجراء :06-02-2020

فتوی پرنٹ