1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. ممنوعات و مباحات
  3. ماکولات / مشروبات
  4. کھانے پینے کی حلال و حرام ، مکروہ و مباح اشیاء

سانڈا کھانے اور اس کا تیل استعمال کرنے کا حکم

سوال

سانڈا  کھانا کیسا ہے؟

اور اس کا تیل نکال کر دوا کے طور پر استعمال کرنا کیسا ہے؟

جواب

سانڈا گوہ کی قسم کا جانور ہے،  اور گوہ حرام جانوروں میں سے ہے، لہذا  سانڈا کھانا جائز نہیں۔
فیروز اللغات،  ایڈوانس اردو  لغت:

’’سانڈا: گوہ کی قسم کا ایک جانور۔   گوہ کی قسم کا ایک جانور جس کا تیل طلائے قضیب یا گٹھیا کے واسطے نکالا جاتا ہے‘‘۔

البحر الرائق میں ہے:

’’وأمّا الضب والزبور والسلحفاة والحشرات فلأنها من الخبائث‘‘. ( ٨ / ١٩٥، ط: دارالکتاب الإسلامي)

سانڈا چوں کہ حلال جانوروں میں سے نہیں؛ لہذا اس کی چربی سے  حاصل شدہ تیل بھی پاک نہیں، البتہ بغرضِ علاج اس کے تیل کے بیرونی استعمال کی اجازت ہے، تاہم جسم کے جس حصہ پر مذکورہ تیل لگا ہوا ہو، نماز سے قبل اس حصہ کو پاک کرنا ضروری ہوگا، بصورتِ دیگر نماز نہ ہوگی۔ اگر اس کے متبادل پاک چیز سے علاج ممکن ہو تو وہی اختیار کیا جائے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وَإِذَا غَمَسَ الرَّجُلُ يَدَهُ فِي السَّمْنِ النَّجِسِ أَوْ أَصَابَ ثَوْبَهُ ثُمَّ غَسَلَ الْيَدَ أَوْ الثَّوْبَ بِالْمَاءِ مِنْ غَيْرِ حِرْصٍ وَأَثَرُ السَّمْنِ بَاقٍ عَلَى يَدِهِ يَطْهُرُ، وَبِهِ أَخَذَ الْفَقِيهُ أَبُو اللَّيْثِ، وَهُوَ الْأَصَحُّ. هَكَذَا فِي الذَّخِيرَةِ. (كتاب الطهارة، الْبَابُ السَّابِعُ فِي النَّجَاسَةِ وَأَحْكَامِهَا وَفِيهِ ثَلَاثَةُ فُصُولٍ، الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي تَطْهِيرِ الْأَنْجَاسِ، ١ / ٤٢) فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144106200419
تاریخ اجراء :06-02-2020

PDF ڈاؤن لوڈ