1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. معاملات
  3. بیع / تجارت
  4. بیع صحیح ، فاسد اور باطل

گروی مکان میں تصرف

سوال

 کیا گروی مکان لینا یا دینا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ گروی رکھوانے والا (یعنی جو گروی رکھی ہوئی چیز کا اصل مالک ہے) ’’راہن‘‘  کہلاتا ہے اور گروی رکھنے والا ’’مرتہن‘‘ کہلاتا ہے۔

قرض لیتے وقت بطورِ وثیقہ رہن (گروی) رکھنے کی اجازت ہے۔ لیکن گروی رکھے ہوئے مکان میں مرتہن کو کسی بھی قسم کا تصرف کرنے کی اجازت نہیں ہےاور راہن کے لیے گروی رکھے ہوئے مکان کا لین دین کرنا، مرتہن کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہے۔

الفتاوى الهندية (5 / 462):
"وتصرف الراهن قبل سقوط الدين في المرهون إما تصرف يلحقه الفسخ كالبيع والكتابة والإجارة والهبة والصدقة والإقرار ونحوها، أو تصرف لايحتمل الفسخ كالعتق والتدبير والاستيلاد، أما الذي يلحقه الفسخ لاينفذ بغير رضا المرتهن، ولايبطل حقه في الحبس، وإذا قضى الدين وبطل حقه في الحبس نفذت التصرفات كلها.

ولو أجاز المرتهن تصرف الراهن نفذ وخرج من أن يكون رهنا والدين على حاله، وفي البيع يكون الثمن رهنا مكان المبيع، وكذا إذا كان تصرفه في الابتداء بإذن المرتهن". فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144106200386
تاریخ اجراء :05-02-2020

PDF ڈاؤن لوڈ