1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. باہمی حقوق
  4. اولاد کے حقوق

والد نے زندگی میں بیٹوں کو نقد رقم کا مالک بنادیا

سوال

 میرے سسر کی   3  بیٹیاں  2  بیٹے  ہیں، میرے سسر کا ایک فلیٹ تھا انہوں نے 20 سال پہلے فروخت کر دیا 5 لاکھ کا اور وہ پیسے انہوں نے اپنے 2 بیٹوں کو دے  دیے اور کہا اس میں بیٹیوں کا کچھ حصہ نہیں ہے، ہم نے ان کی شادیاں کر دی۔

ان 5  لاکھ روپے اور کچھ رقم 2 لاکھ شامل کر کے 7 لاکھ بیٹوں کو دے  دیے،  بیٹوں نے  2  لاکھ اپنے شامل کر کے ایک مکان خریدا،  جس کی قیمت  9  لاکھ روپے تھی،  بیٹوں نے اپنے نام کرلیا اور ساس سسر بھی ان کے ساتھ اس مکان میں شفٹ ہو گئے، ساس سسر بھی اسی مکان میں رہتے تھے، اس مکان میں بیٹوں نے اپنے اور پیسے لگائےاس مکان میں کچھ  کام وغیرہ کرایا، اب انہوں نے وہ مکان فروخت کر دیا، اس کی مجھے ٹھیک قیمت نہیں معلوم، لیکن اس علاقے میں اس وقت مکان کی قیمت 1 کروڑ 20 لاکھ ہو گی اور دونوں بیٹوں نے اپنے الگ الگ گھر خرید  لیے، ساس سسر ایک بیٹے کے ساتھ اس کے گھر میں شفٹ ہو گئے اور دوسرا بیٹا اپنے باپ کے انتقال پر بھی نہیں آیا ۔

مکان فروخت ہونے سے پہلے سسر نے اپنے بیٹوں کو کہا تھا: بہنوں کو حصہ دینا ہے، جس پر بیٹوں نے بہنوں کو حصہ دینے سے انکار کر دیا، اپنے انتقال سے پہلے انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ انہوں نے ٹوٹل 7 لاکھ روپے بیٹوں کو  دیے تھے، ساس میری زندہ ہیں، میرے سسر کے بیٹوں نے جو مکان پہلے سسر کے پیسوں سے خریدا تھا ، میں اس کے لین دین میں گواہ تھا اور میرے علم میں یہ بات نہیں تھی کہ میرے سسر نے مکان کے پیسے اپنے بیٹوں کو دے دیے ہیں، اور بیٹیوں کو حصہ نہیں دینا، اس بات کا علم میری ساس کو تھا انہوں اپنی بیٹیوں کو یہ بات نہیں بتائی۔

میرے آپ سے سوال یہ ہیں:

1. کیا میں اپنی بیوی کو  اپنے سالے کے گھر جا نے سے روک سکتا ہوں، جب کہ میری ساس سالے کے گھر میں رہتی ہے؟

2. کیا میں اپنی بیوی کو اس کی ماں سے ملنے سے روک سکتا ہوں؛ کیوں کہ وہ بھی میرے سسر کی بیٹیوں کو حصہ نہیں دینے میں شریک تھیں؛ کیوں کہ انہوں نے جب اپنی بیٹیوں کو یہ بات نہیں بتائی تھی؟

3. میں نے سنا ہے  جو بھائی اپنی بہنوں کو وراثت کا حصہ نہیں دیتے ان کا کھانا پینا حرام ہے؟

4. اگر میری بیوی میرے منع کرنے پر بھی اپنے بھائی او ر اپنی ماں سے ملے تو کیا میں اس کو چھوڑ سکتا ہوں؛ کیوں کہ وہ شریعت کی خلاف ورزی کرنے والوں کا ساتھ دے رہی ہے؟

5۔ کیا میرے سسر کا بیٹیوں کو حصہ نہیں دینے کا فیصلہ درست تھا؟  انتقال سے انہوں نے بیٹوں کو کہا تھا: بہنوں کو حصہ دو، مگر بیٹوں نے ان کی بات نہیں مانی۔

6 . میرے  سالوں نے مکان بیچ کر اپنے الگ الگ گھر خریدے، اس میں انہوں نے کچھ پیسے اپنے بھی شامل کیے ہیں، کیا ان گھروں میں بھی بہنوں کا حصہ ہو گا یا سسر نے جو 7 لاکھ کے قریب 20 سال پہلے دیے تھے، اس میں سے بہنوں کو حصہ ملےگا یا اس وقت مکان 1 کڑور 20 لاکھ کا فروخت ہوا ہے اس میں حصہ ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ والدین اپنی زندگی میں اپنی اولاد کو جو کچھ دیتے ہیں وہ  میراث نہیں، بلکہ ان کی طرف سے تحفہ (گفٹ) ہوتا ہے،  جس میں تمام اولاد کے درمیان برابری ضروری ہوتی ہے،  پس اگر اولاد کے درمیان والدین یا ان میں سے کوئی ایک معقول شرعی وجہ کے بغیر  برابری نہ کرے تو وہ گناہ گار قرار پاتا ہے، البتہ اولاد میں سے کسی کو اس تحفہ پر قبضہ  دے  دینے  کی صورت میں شرعاً تحفہ پر اس کی ملکیت ثابت ہوجاتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے سسر مرحوم سے پانچ لاکھ یا سات لاکھ ( جیسا کہ سائل نے تحریر کیا ہے)  بیٹوں کو دینے اور بیٹیوں کو نہ دینے میں نا انصافی ہوئی ہے، تاہم اس رقم پر بیٹوں کی ملکیت شرعاً ثابت ہوچکی ہے، اور اس رقم سے جو گھر خریدا گیا وہ بھی بیٹوں کی ہی ملکیت تھا، اور اسے فروخت کرنے کے بعد جو دو الگ الگ مکانات بیٹوں نے خریدے وہ بھی انہیں کے شمار ہوں گے، بیٹیوں کا اس میں کوئی حق نہ ہوگا، تاہم والد نے پہلے مکان کے فروخت کرنے پر بیٹوں کو بیٹیوں کو جو حصہ دینے کہا تھا، (اگر بیٹوں کو دی گئی رقم کے علاوہ والد کا کوئی اور ترکہ نہیں تھا تو) وہ شرعاً مشورہ شمار ہوگا، جس کا ماننے یا نہ ماننے کا اختیار بیٹوں کو حاصل ہوگا، یعنی وہ اپنی بہنوں کو  اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں، اور نہ دینا چاہیں تو ان پر کوئی گناہ نہ ہوگا۔ البتہ اگر والد نے میراث میں مذکورہ رقم کے علاوہ کچھ اور بھی چھوڑا ہے تو وہ ان کے شرعی ورثہ میں بقدرِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا۔

1۔ اپنے سالوں سے قطع تعلق کرنا درست نہیں، محض اس معاملہ کی وجہ سے بیوی کو سالے کے گھر جانے سے روکنا درست نہیں۔

2۔ بیوی کو اس کی ماں سے ملنے سے روکنا جائز نہ ہوگا، سسر صاحب نے اپنے مال میں جو تصرف کیا اس کی ذمہ دار آپ کی ساس نہیں۔

3۔ یہ بات درست نہیں، نیز مسئولہ صورت میں  سائل کے سسر نے اپنی زندگی میں مذکورہ رقم کا چوں کہ مالک اپنے بیٹوں کو بنا دیا تھا، جس کی وجہ سے مذکورہ رقم سسر مرحوم کے ترکہ میں شمار ہی نہ ہوگی،  اور نہ ہی مذکورہ رقم سے خریدا گیا گھر مرحوم کا ترکہ شمار ہوگا  کہ اس میں سے حصہ نہ دینے کی وجہ سے بھائیوں کو بہنوں کا حصہ غصب کرنے والا شمار کیا جا سکے۔

4۔  مسئولہ صورت میں  بیوی کو اپنی ماں اور بھائیوں سے ملنے سے منع کرنا درست نہ ہوگا، لہٰذا بیوی کے اپنی ماں سے ملنے پر اسے طلاق دینا اور چھوڑنا بھی جائز نہیں ہوگا۔

5۔ تفصیلی جواب ابتدا میں تحریر کیا جا چکا ہے۔

6۔  والد کے  دیے گئے پیسوں سے خریدا گیا مکان چوں کہ بیٹوں کی ہی ملکیت تھا، لہذا اسے فروخت کرکے جو مکانات خریدے گئے وہ مکان بھی بیٹوں کے ہی ملکیت شمار ہوں گے، ان مکانات میں بیٹیوں کا کوئی حصہ نہیں۔ فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144107200070
تاریخ اجراء :26-02-2020

PDF ڈاؤن لوڈ