1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. عبادات
  3. ذبیحہ / قربانی
  4. قربانی کا جانور

ایک گائے میں سات افراد کی قربانی

سوال

سات افراد نے مل کر قربانی کرنے کا فیصلہ کیا, ہربندے نے 5000 روپے ملائے اس بنا پر کہ 35000 کا جانور آجائےگا, لیکن جانور 38000 کا آیا تو ایک بندے نے اضافی 3000 روپے دوسرے شریکوں سے اجازت لیے بغیر اپنے پاس سے ملادیے, تو اس صورت میں کہ چھ افراد کا حصہ گائے کے ایک حصہ سے کم ہے, اور ایک شریک نے دوسرے شرکاء سے اجازت لیے بغیر اور ان کو بتائے بغیر ان کے حصہ کے  کچھ  پیسے اپنے پاس سے ادا کردیے تو  کیا اس صورت میں سب کی قربانی درست ہو گئی ہے یا نہیں؟

جواب

مذکورہ صورت میں جب پیسے کم پڑ گئے اور ایک ساتھی نے ڈال کر  جانورلے  لیا تو اس کو چاہیے کہ باقی شرکاء سے وصول کرلے، یا اپنی طرف سے ملاتاہے تو جانور ذبح کرنے سے پہلے دوسرے شرکاء کو بتادے کہ میں نے یہ رقم آپ لوگوں کو ہدیہ کی، اس طرح کرنے سے ہر ایک کا حصہ مکمل ہو جائے گا اور قربانی درست ہو جائے گی۔

 اور اگر قربانی ادا کردی گئی ہے تو بھی وہ حصہ داروں کو بتادے کہ میں نے یہ رقم آپ کو ہدیہ کردی ہے، یعنی آپ کی طرف سے اتنے پیسے زائد دےدئےتھے، وہ رقم اپنی طرف سے نہیں دی تھی  تو بھی  قربانی ہوگئی ۔

بہر صورت  چوں کہ حصہ داروں نے مکمل ایک حصہ لینے کے لیے اس کو وکیل بنایا تھا؛ لہذا اسے اپنے لیے ایک حصہ سے زیادہ رکھنے کی اجازت نہیں تھی،  یا تو اپنی رقم ان کو ہدیہ کردے یا ان سے اتنی رقم وصول کرلے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 70):

"ولايجوز بعير واحد ولا بقرة واحدة عن أكثر من سبعة، ويجوز ذلك عن سبعة أو أقل من ذلك، وهذا قول عامة العلماء.

وقال مالك - رحمه الله -: يجزي ذلك عن أهل بيت واحد - وإن زادوا على سبعة -، ولايجزي عن أهل بيتين - وإن كانوا أقل من سبعة -، والصحيح قول العامة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم : «البدنة تجزي عن سبعة والبقرة تجزي عن سبعة». وعن جابر - رضي الله عنه - قال: «نحرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم البدنة عن سبعة والبقرة عن سبعة»، من غير فصل بين أهل بيت وبيتين؛ ولأن القياس يأبى جوازها عن أكثر من واحد؛ لما ذكرنا أن القربة في الذبح وأنه فعل واحد لايتجزأ؛ لكنا تركنا القياس بالخبر المقتضي ؛ للجواز عن سبعة مطلقاً، فيعمل بالقياس فيما وراءه ؛ لأن البقرة بمنزلة سبع شياه، ثم جازت التضحية بسبع شياه عن سبعة سواء كانوا من أهل بيت أو ،بيتين فكذا البقرة ... ولا شك في جواز بدنة أو بقرة عن أقل من سبعة بأن اشترك اثنان أو ثلاثة أو أربعة أو خمسة أو ستة في بدنة أو بقرة؛ لأنه لما جاز السبع فالزيادة أولى، وسواء اتفقت الأنصباء في القدر أو اختلفت؛ بأن يكون لأحدهم النصف وللآخر الثلث ولآخر السدس بعد أن لاينقص عن السبع، ولو اشترك سبعة في خمس بقرات أو في أكثر فذبحوها أجزأهم ؛ لأن لكل واحد منهم في كل بقرة سبعها، ولو ضحوا ببقرة واحدة أجزأهم فالأكثر أولى، ولو اشترك ثمانية في سبع بقرات لم يجزهم؛ لأن كل بقرة بينهم على ثمانية أسهم فيكون لكل واحد منهم أنقص من السبع، وكذلك إذا كانوا عشرة أو أكثر فهو على هذا". فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144107200679
تاریخ اجراء :12-03-2020

PDF ڈاؤن لوڈ