1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. معاملات
  3. بیع / تجارت
  4. بیع صحیح ، فاسد اور باطل

چوری کی رقم سے کاروبار کرنا

سوال

ایک آدمی نے رقم چوری کی, پھر اس چوری کی رقم سے کاروبار کیا، اب اس کاروبار سے حاصل شدہ نفع حلال ہو گا یا حرام؟

جواب

اگر کوئی آدمی چوری کر کے کوئی رقم حاصل کرتا ہے، پھر اس رقم سے کاروبار شروع کرتا ہے تو ایسا کرنا سخت گناہ کا کام ہے، اس کو  چاہیے کہ اس عمل سے خوب توبہ و استغفار کرے، ورنہ سخت گناہ گار ہو گا اور توبہ کے ساتھ  اس پر یہ بھی واجب ہے کہ جس قدر رقم چوری کی تھی اتنی رقم اپنے کاروبار  سے نکال کر اصل مالک تک پہنچا دے، اور اگر مالک مرگیا ہو تو اس کے ورثاء تک پہنچائے، انہیں تلاش کرنے میں اپنی پوری کوشش صرف کرے، اگر وہ مل جائیں تو انہیں وہ رقم حوالہ کردے،  اور اگر پوری طاقت اور وسائل صرف کرنے کے باوجود اس کے مالک یا ورثاء کا بالکل علم نہ ہو، اور نہ ہی ان سے رابطے کی امید ہو تو اتنی رقم اصل مالک کی طرف سے صدقہ کردے، خود اپنے ثواب کی نیت نہ کرے، جب ایسا کر لے گا تو اس کاروبار  سے حاصل شدی منافع حلال ہوجائے گا۔

    فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: اکتسب حراماً الخ)توضیح المسألة ما في التتارخانیة حیث قال: رجل اکتسب مالاً من حرام ثم اشتری فهذا علی خمسة أوجه، إما إن دفع تلك الدراهم إلی البائع أولاً ثم اشتری منه بها أو اشتری قبل الدفع بها ودفعها، أو اشتری قبل الدفع بها ودفع غیرها، أو اشتری مطلقاً ودفع تلك الدراهم، أو اشتری بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم، قال أبونصر: یطیب له ولایجب علیه أن یتصدق إلا في الوجه الأول … وقال الکرخي في الوجه الأول والثاني: لایطیب، وفي الثلاث الأخیرة یطیب، وقال أبوبکر: لایطیب في الکل.  لکن الفتوی الآن علی قول الکرخی دفعاً للحرج عن الناس". (ردالمحتار ۴:۲۴۴ مطلب إذا اکتسب حراماً ثم اشتری فهو علی خمسة أوجه) فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144107200373
تاریخ اجراء :05-03-2020

PDF ڈاؤن لوڈ