1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. عقائد
  3. اسلامی عقائد
  4. انبیاء و رسل علیہم السلام

کیا انبیاءِ کرام علیہم السلام کا دل شیطانی حملوں سے محفوظ ہوتا ہے؟

سوال

کیا پیغمبر کا دل شیطان کے حملوں سے محفوظ رہتا تھا؟

جواب

واضح رہے کہ انبیاءِ کرام علیہم الصلاۃ والسلام پر شیطان کا تسلط اور استیلاء نہیں ہوتا۔ قرآن مجید میں ہے :

{إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ} [الحجر: 42]

ترجمہ: ”جو میرے بندے ہیں، تیرا ان پر کچھ زور نہیں “.

ایک اور مقام پر ہے:

﴿اِنَّه لَیْسَ لَه سُلْطٰنٌ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰی رَبِّهمْ یَتَوَکَّلُوْنَ﴾ [النحل:۹۹]
ترجمہ :  یقیناً اس کا قابو ان لوگوں پر نہیں چلتا جو ایمان رکھتے ہیں اور اپنے رب پر (دل سے) بھروسہ رکھتے ہیں ۔
[ف: ٤]  یعنی اس کا وسوسہ ان پر موثر نہیں ہوتا۔ (ترجمہ و فائدہ از بیان القرآن)

اس بات پر واضح دلیل ہے کہ انبیاء علیہم السلام معصوم ہوتے ہیں۔

اور شیطان انبیاءِ کرام علیہم السلام کے دل میں بلاواسطہ وسوسہ نہیں ڈال سکتا ہے، انبیاءِ کرام علیہم السلام سے اگر کہیں کچھ لغزشیں ہوئی ہیں تو اجتہادی خطا  یا خلافِ اولیٰ امور کے اختیار کی بنا پر ہوئی ہیں، اور خواص مقربین سے خلافِ اولیٰ کے صدور پر بھی انہیں بارگاہِ خداوندی سے تنبیہ ہوجاتی ہے، جب کہ عامۃ الناس کے لیے وہ امور جائز ہوتے ہیں، شیطان کے تسلط کی وجہ سے نہیں ہوئی ہیں اور نہ ہی کسی نبی پر کبھی شیطانی تسلط ہوا  ہے۔ (ماخذ فتاوی جامعہ)

شرح النووي علی الصحیح لمسلم، کتاب صفة المنافقین و أحکامهم، باب تحريش الشيطان وبعثه سراياه لفتنة الناس وأن مع كل إنسان قرينًا، (2/376) ط: قدیمي کراچي:

"قوله صلى الله عليه وسلم : ( ما منكم من أحد إلا وقد وكل به قرينه من الجن ، قالوا : وإياك ؟ قال : وإياي إلا أن الله أعانني عليه فأسلم فلا يأمرني إلا بخير ) ( فأسلم ) برفع الميم وفتحها ، وهما روايتان مشهورتان فمن رفع قال : معناه : أسلم أنا من شره وفتنته ، ومن فتح قال : إن القرين أسلم ، من الإسلام وصار مؤمنًا لايأمرني إلا بخير، واختلفوا في الأرجح منهما، فقال الخطابي: الصحيح المختار الرفع، ورجح القاضي عياض الفتح وهو المختار؛ لقوله صلى الله عليه وسلم: " فلايأمرني إلا بخير"، واختلفوا على رواية الفتح، قيل: أسلم بمعنى استسلم وانقاد، وقد جاء هكذا في غير صحيح مسلم ( فاستسلم ) وقيل: معناه صار مسلمًا مؤمنًا، وهذا هو الظاهر، قال القاضي: واعلم أن الأمة مجتمعة على عصمة النبي صلى الله عليه وسلم من الشيطان في جسمه وخاطره ولسانه. وفي هذا الحديث إشارة إلى التحذير من فتنة القرين ووسوسته وإغوائه ، فأعلمنا بأنه معنا لنحترز منه بحسب الإمكان".
شرح الشفا:
"(واعلم أنّ الأمّة مجمعة) وفي نسخة مجتمعة (على عصمة النبيّ صلى الله تعالى عليه وسلم) أي حفظه وحمايته (من الشّيطان) لقوله تعالى إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ (وكفايته) أي وعلى كفاية الله له وفي نسخة وحراسته (منه) أي من ضرره الظاهري والباطني كما بينه بقوله (لا في جسمه) أي ظاهر جسده (بأنواع الأذى) كالجنون والإغماء (ولا على خاطره بالوساوس) أي على وجه الإلقاء". 
(2/ 214، ط: مطبع سندھ)

وکذا حاشیۃ العلامہ الصاوی  علی تفسیر الجلالین، (الاعراف 20) 2/66، ط: المکتبہ التجاریہ۔

نیز  متعلقہ موضوع مزید راہ نمائی کے لیے درج ذیل لنک پر جامعہ کے ترجمان رسالہ ماہنامہ بینات میں شائع شدہ مضمون ملاحظہ فرمائیں:

عصمت ِ انبیاء علیہم السلام وحرمت ِ صحابہ رضی اللہ عنہم

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144107200851
تاریخ اجراء :17-03-2020

PDF ڈاؤن لوڈ