1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. لباس / وضع قطع
  4. بالوں کے احکام و آداب

کنگھی کے دوران ڈاڑھی کے بال ٹوٹ جانے کی صورت میں ان کو پھینکنا

سوال

داڑھی کو کنگھی کرتے وقت داڑھی کے بال نکل جائیں تو داڑھی کے بالوں  کو گرانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

داڑھی کے بال انسانی جسم کا حصہ ہونے کی وجہ سے قابلِ احترام ہیں، اس لیے کنگھی کے دوران اگر ڈاڑھی کے بال ٹوٹ جائیں تو بہتر یہ ہے کہ  انہیں کسی جگہ دفنا دیا جائے، اگر دفنانے کی سہولت نہ ہو تو ایسی جگہ مٹی میں ڈال دیے جائیں جہاں گندگی اور ناپاکی نہیں ہو، البتہ اس میں بہت زیادہ تکلف میں بھی نہیں پڑنا چاہیے، اگر کبھی کسی وجہ سے ڈاڑھی کے ٹوٹے بال زمین پر گرگئے اور انہیں جمع کرنے میں سہولت نہ ہو تو ان کو جمع کرکے زمین میں دفنانا ضروری نہیں ہے، بلکہ حرج کی وجہ سے یہ  معاف ہے۔

"فإذا قلم أظفاره أو جزّ شعره ینبغي أن یدفن ذلك الظفر والشعر المجزوز، فإن رمی به فلا بأس، وإن ألقاه في الکنیف أو في المغتسل یکره ذلك؛ لأن ذلك یورث داء، کذا في فتاوی قاضي خان". (الفتاوی الهندية، ج۵ ص ۳۵۸ کتاب الکراهية، الباب التاسع عشر في الحنان والخصآء وقلم الأظفار ...الخ) فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144107200987
تاریخ اجراء :20-03-2020

PDF ڈاؤن لوڈ