1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. عبادات
  3. نماز
  4. نماز اور اس کی شرائط و ارکان ، سنن و آداب

نمازی کے آگے سے گزر گیا

سوال

میرے پیچھے ایک بندہ نما ز پڑھ رہا تھا میں اس کے سامنے سے گزرگیاو ایسا کرنا کیساہے؟

جواب

نمازی کے سامنے سے قصداً گزرنا گناہ ہے، لہذا اگر آپ قصداً گزرے ہیں تو  توبہ اور استغفار کریں اور آئندہ ایسا نہ کریں۔

’’حضرت ابوجہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نمازی کے آگے سے گزرنے والا اگر یہ جان لے کہ اس کی کیا سزا ہے تو وہ نمازی کے آگے سے گزرنے کے بجائے چالیس تک کھڑے رہنے کو بہتر خیال کرے۔ (اس حدیث کے ایک راوی ) حضرت ابونضر فرماتے ہیں کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال کہا گیا ہے‘‘۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) ۔

مذکورہ حدیث کی تشریح میں صاحبِ مظاہرحق علامہ قطب الدین خان دہلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :

’’ حضرت امام طحاوی نے " مشکل الآثار" میں فرمایا ہے کہ  یہاں چالیس سال مراد ہے نہ کہ چایس مہینے یا چالیس دن۔ اور انہوں نے یہ بات حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس حدیث سے ثابت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی جو اپنے بھائی کے آگے سے اس حال میں گزرتا ہے کہ وہ اپنے رب سے مناجات کرتا ہے (یعنی نماز پڑھتا ہے)، وہ (اس کا گناہ) جان لے تو اس کے لیے اپنی جگہ پر ایک سو برس تک کھڑے رہنا زیادہ بہتر سمجھے گا بہ نسبت اس کے کہ وہ نمازی کے آگے سے گزرے۔ بہر حال !ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نمازی کے آگے سے گزرنا بہت بڑا گناہ ہے جس کی اہمیت کا اس سے اندازا  لگایا جا سکتا ہے کہ اگر کسی آدمی کو یہ معلوم ہو جائے کہ نمازی کے آگے سے گزرنا کتنا بڑا گناہ ہے اور اس کی سزا کنتی سخت ہے تو وہ چالیس برس یا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کے مطابق ایک سو برس تک اپنی جگہ پر مستقلاً کھڑے رہنا زیادہ بہتر سمجھے گا بہ نسبت اس کے کہ وہ نمازی کے آگے سے گزرے‘‘۔

البتہ وہ شخص آپ کے بالکل پیچھے تھا اور آپ اپنی جگہ سے اٹھ کر چلے گئے، یعنی مرور (گزرنا) نہیں پایا گیا تو امید ہے کہ یہ اس وعید میں داخل نہیں ہوگا۔ بہرحال استغفار تو مؤمن کو کرتے ہی رہنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144107200751
تاریخ اجراء :14-03-2020

PDF ڈاؤن لوڈ