1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. معاملات
  3. وراثت / وصیت
  4. ورثاء اور ان کے حصص

بیوہ اور چار بیٹیوں میں جائیداد تقسیم کرنے کا طریقہ

سوال

ورثا ء: ایک زوجہ،  بڑی بیٹی کوئی اولاد نہیں،  پھر بیٹی تین بچے،  پھر بیٹی تین بچے،  پھر بیٹی تین بچے،  جائے داد کی تقسیم کس طرح کی جائے؟  کیا سب کا حصہ برابر ہو گا یا بچوں والی بیٹیوں اور بغیر بچوں والی بیٹی کا معاملہ جدا ہو گا،  سب بیٹیاں شادی شدہ ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اولاد کی موجودگی میں بیوہ کا حصہ ساڑھے بارہ فیصد ہوتا ہے، یعنی بیوی اپنے  شوہر کے کل ترکہ/ مال کے آٹھویں حصہ کی حق دار ہوتی ہے۔

نیز شریعت میں بیٹیوں کے حصے کا مدار ان کی اولاد پر نہیں ہوتا، بلکہ  تمام بیٹیوں کا حصہ ایک جیسا ہوتا ہے، خواہ ان کی اولاد ہو یا نہ ہو۔

پھر اگر مرحوم کا نہ کوئی بیٹا ہے، نہ پوتاہے، نہ والد ہے،  نہ دادا ہے، نہ بھائی ہے، نہ بھتیجا ہے، نہ چچا ہے اور نہ ہی چچا زاد بھائی ہے تو ایسی صورت میں مرحوم کے ترکہ کو تقسیم کرنے کی صورت یہ ہو گی کہ اولاً ان کے ترکہ میں سے تجہیز و تکفین کے اخراجات ادا کیے جائیں، اگر قرضہ جات ہوں تو وہ ادا کیے جائیں، پھر اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو ایک تہائی میں سے نافذ کیا جائے، اس کے بعد مرحوم کی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو 32 حصوں میں تقسیم کر کے بیوہ کو 4 حصے اور ہر ایک بیٹی کو سات سات حصے ملیں گے۔

یعنی فیصد کے اعتبار سے بیوہ کو بارہ اعشاریہ پچاس فیصد اور ہر ایک بیٹی کو 21 اعشاریہ 875 فیصد ملے گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 789):
"(و) الثالث (إن كان مع الأول) أي الجنس الواحد (من لايرد عليه) وهو الزوجان (أعطى) من لايرد عليه (فرضه من أقل مخارجه وقسم الثاني على) رءوس (من يرد عليه كزوج وثلاث بنات) فهي من أربعة، للزوج واحد، وبقي ثلاثة وهي تستقيم عليهن فلا حاجة إلى الضرب، (وإن لم يستقم فإن وافق رءوسهم) أي رءوس من يرد عليهم (كزوج وست بنات ضرب وفقها) وهو هنا اثنان (في مخرج فرض من لايرد عليه) وهو هنا أربعة تبلغ ثمانية فللزوج اثنان وللبنات ستة، (وإلا) يوافق بل باين (ضرب كل) عدد رءوسهم (فيه) أي المخرج المذكور (كزوج وخمس بنات) فالمخرج هنا أربعة للزوج واحد بقي ثلاثة تباين الخمسة فاضرب الأربعة في الخمسة تبلغ عشرين كان للزوج واحد اضربه في المضروب يكن خمسة فهي له والباقي ثلاثة اضربها في المضروب تبلغ خمسة عشر فلكل بنت ثلاثة". فقط والله أعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144107200815
تاریخ اجراء :15-03-2020

PDF ڈاؤن لوڈ