1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. عبادات
  3. زکوٰۃ / صدقات
  4. ادائے زکوٰۃ

سونے کا نصاب / زکاۃ میں نقد رقم کے علاوہ کوئی چیز دینا

سوال

1:  اگر کسی کے پاس صرف سونا ہو جو نصاب تک نہ پہنچتا ہو تو کیا اس پر  زکاۃ آۓ گی؟

2: اگر کسی انسان پر مثال کے طورپر تین ہزار روپے زکاۃ نکلتی ہو، اب مستحقِ زکاۃ کو وہ زکاۃ نکالنے والا کوئی چیز جس کو وہ بیچ رہا ہے 7 ہزار میں اور اس چیز کی مالیت بھی تقریباً اتنی ہی ہے اب وہ شخص اس مستحقِ زکاۃ کو وہ چیز 4 ہزار میں فروخت کردے اور تین ہزار روپے زکاۃ کی مد میں معاف کردے تو کیا یہ درست ہے،  اور زکاۃ ادا ہو جاۓ گی؟

3: کیا زکاۃ روپیہ  پیسہ کے علاوہ کسی عینی چیز سے ادا کر سکتے ہیں، جیسے تین ہزار کی زکاۃ کے بدلہ تین ہزار کی مالیت کے کپڑے دے دیے جائیں؟

جواب

سوالات کے جوابات ترتیب وار یہ ہیں:

1۔  اگر کسی شخص کے پاس صرف سونا ہو اور اس کے علاوہ چاندی یا نقد رقم وغیرہ  کچھ نہ ہو تو ایسے شخص پر زکاۃ اس وقت لازم ہو گی جب اس کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا موجود ہو، اگر اس سے کم ہو گا تو زکاۃ لازم نہ ہو گی۔اور اگر سونے کے ساتھ چاندی یا بنیادی ضرورت سے زائد نقد رقم وغیرہ ہو تو کل مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہونے کی صورت میں سال گزرنے پر زکاۃ کی ادائیگی فرض ہوگی۔ 

2۔  سات ہزار کی چیز  چار ہزار میں فروخت کرکے تین ہزار زکاۃ کی مد میں معاف کرنے سے زکاۃ ادا نہیں ہوگی، اس لیے کہ جو  مذکورہ چیز  فروخت کی گئی ہے اور اس کی بقایا رقم خریدار کے ذمہ قرض ہے اور قرض معاف کرنے سے  زکاۃ ادا نہیں  ہوتی، اس کی جائز صورت یہ ہوسکتی ہے کہ پہلے  خریدار کو سات ہزار کی چیز  فروخت کرکے اس سے سات ہزار  لے لیں، پھر بعد میں تین ہزار زکاۃ کی مد میں دے دیں، اگر اس کے پاس اتنے پیسے نہ ہوں تو آپ اس کو زکاۃ کی مد میں ابتداءً تین ہزار روپے دے دیں، جس میں چار ہزار ملاکر وہ آپ سے سات ہزار کی چیز  خرید لے۔

3۔ مستحقِ زکاۃ کو  نقد رقم کے علاوہ  کسی عین کا مالک بناکر دے دینے سے بھی زکاۃ ادا ہوجاتی ہے، لہذا  تین ہزار روپے کے بدلے تین ہزار  کے کپڑے  زکاۃ میں دینا جائز ہے، اس سے زکاۃ ادا ہوجائے گی۔ فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144107200823
تاریخ اجراء :16-03-2020

PDF ڈاؤن لوڈ