1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. معاملات
  3. ملازمت
  4. جائز اور ناجائز ملازمت

رشوت دے کر نوکری حاصل کرنا

سوال

میرے کزن کا دوست کے الیکٹرک میں ہے، تو میرا کزن مجھے وہاں لگانا چاہ رہا ہے، لیکن کے الیکٹرک والے 250000 مانگ رہے ہیں۔ آپ سے پوچھنا تھا کہ یہ جائز ہے یا نہیں؟آج کل ہر جگہ جہاں جاؤں پیسے مانگتے ہیں۔آپ مجھے بتا دیں تاکہ میں مطمئن ہو جاؤں!

جواب

واضح رے کہ رشوت لینے اور دینے والے پر حدیث میں لعنت وارد ہوئی ہے جیسا کہ سنن ابی داؤد میں ہے:
’’عن أبي سلمة، عن عبد الله بن عمرو، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي»‘‘.  (3/ 300،کتاب الأقضیة، باب في کراهیة الرشوة، رقم الحدیث: 3580،ط: المکتبة العصریة)

لہذا ا گر کسی نوکری کے آپ اہل ہیں اور تمام قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے باوجود آپ کو نوکری نہیں دی جارہی ہو اور رقم کا مطالبہ کیا جا رہا ہو، تو اس صورت میں بھی رشوت دے کر نوکری حاصل کرنے کی شرعاً اجازت نہ ہوگی، کوئی اور متبادل حلال ذریعہ اختیار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہاں! البتہ اگر آپ مطلوبہ نوکری کے اہل ہوں اور قانونی تقاضے پورے ہوں تو جائز طریقے سے سفارش کے ذریعے ملازمت حاصل کرنا جائز ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144110201045
تاریخ اجراء :08-06-2020

فتوی پرنٹ