1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. معاملات
  3. ملازمت
  4. جائز اور ناجائز ملازمت

ریسٹورنٹ میں صفائی کے لیے استعمال ہونے والے ٹیشوپیپر کو واش روم میں استعمال کرنے کا حکم

سوال

میں ریسٹورنٹ میں کام کرتا ہوں،  صفائی کے لیے ٹیشو پیپر استعمال ہوتا ہے، کیا میں ٹشو پیپر واش روم کے لیے استعمال کر سکتا ہوں؟

جواب

بصورتِ مسئولہ اگر ریسٹورنٹ میں ٹیشوپیپر صرف صفائی ہی کے لیے مختص ہے تو اس کو بغیر اجازت کسی اور کام کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر ریسٹورنٹ مالک یا انتظامیہ کی طرف سے واش روم وغیرہ میں استعمال کرنے کی بھی اجازت ہے تو واش روم کے لیے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ نیز یہ پہلو بھی ملحوظ رہنا چاہیے کہ اگر ٹشو پیپر زیادہ قیمتی ہے تو اسے استنجا میں استعمال نہ کیا جائے، کیوں کہ قیمتی اشیاء کا استنجا میں استعمال مکروہ ہے، البتہ ٹوائلٹ پیپر یا کم قیمت کا ہلکا ٹشوپیپر جس کی وضع ہی اس طرح کی اغراض کے لیے ہوتی ہے، اسے استنجا میں استعمال کرنے میں حرج نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"لایجوز التصرف في مال غیره بلا أذنه". (ردالمحتار علی الدرالمختار، ج:6، ص:200، ط:ایچ ایم سعید)

شرح المجلہ للاتاسی میں ہے:

"عدم الجواز شامل لجمیع أنواع التصرف من استعمال کرکوب و لبس ووضع جذع علی حائط و دخول دار و مرور بارض و من إعارة و إیداع و إجارة و صلح ... ثمّ الإذن یکون صریحًا کتوکیل شخص آخر بتصرف ما في ماله، وقد یکون دلالةً کاجیر لرعي الغنم". (شرح المجلة للعلامة الأتاسي،ج:1، ص:262، المادة:96، ط:مکتبة رشیدیة) فقط والله أعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144110201065
تاریخ اجراء :08-06-2020

فتوی پرنٹ