1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. نکاح / طلاق
  4. محرمات

والد کی چچی سے پردے کا حکم

سوال

کیا دادا کے بھائی کی اہلیہ سے پردہ ہے؟ یعنی وہ محرم ہے؟ دادی کی طرح ہے یانہیں؟

جواب

واضح رہے کہ مرد یا عورت کے لیے رشتہ داروں سے پردے کے بارے میں قاعدہ یہ ہے کہ جن رشتہ داروں سے (مرد یا عورت کا ) نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہے، اُن سے پردہ نہیں، مثلاً: ماں باپ، دادا، دادی، نانا، نانی، بھائی، بہن، چچا، پھوپھی، خالہ، بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی وغیرہ۔ اور جن رشتہ داروں سے نکاح جائز ہے، ان سے پردہ کرنا واجب ہے، مثلاً:  چچازاد، پھوپھی زاد، ماموں زاد، خالہ زاد بہن بھائی، پھوپھا، خالو، چچی، ممانی، بہنوئی وغیرہ، اسی طرح عورت کے لیے اپنے شوہر کے ان رشتہ داروں سے پردہ نہیں ہے، جن رشتہ داروں کا عورت سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہے، مثلاً:سسر، سوتیلا بٹیا وغیرہ، اور شوہر کے وہ رشتہ دار جن سے اس عورت کا نکاح جائز ہے، ان سے پردہ کرنا واجب ہے، جیسے: شوہر کا بھائی (دیور)، شوہر کا چچا، شوہر کا ماموں، شوہر کا پھوپھا، شوہر کا خالو، شوہر کے بھائی کی اولاد اور شوہر کی بہن کی اولاد وغیرہ۔

بصورتِ مسئولہ دادا کی بھابھی یعنی والد کی چچی چوں کہ غیر محرم ہے؛ اس لیے از روئے شرع ان سے پردہ ہے۔

فتح القدیر میں ہے:

وَالْمَحْرَمُ مَنْ لَاتَجُوزُ الْمُنَاكَحَةُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا عَلَى التَّأْبِيدِ بِنَسَبٍ كَانَ أَوْ بِسَبَبٍ كَالرَّضَاعِ وَالْمُصَاهَرَةِ لِوُجُودِ الْمَعْنَيَيْنِ فِيهِ، وَسَوَاءٌ كَانَتْ الْمُصَاهَرَةُ بِنِكَاحٍ أَوْ سِفَاحٍ فِي الْأَصَحِّ؛ لِمَا بَيَّنَّا.

(فتح القدير لكمال بن الهمام،ج:22 ،ص: 210 )

فتاوی شامی میں ہے:

(حرم) على المتزوج ذكرا كان أو أنثى نكاح (أصله وفروعه) علا أو نزل (وبنت أخيه وأخته وبنتها) ولو من زنى (وعمته وخالته) فهذه السبعة مذكورة في آية: {حرمت عليكم أمهاتكم} [النساء: 23]،  ويدخل عمة جده وجدته وخالتهما الاشقاء وغيرهن وأما عمة عمة أمه وخالة خالة أبيه حلال كبنت عمه وعمته وخاله وخالته، لقوله تعالى:{وأحل لكم ما وراء ذلكم} [النساء: 24] (و) حرم المصاهرة (بنت زوجته الموطوءة وأم زوجته) وجداتها مطلقاً بمجرد العقد الصحيح (وإن لم توطأ) الزوجة لما تقرر أن وطئ الامهات يحرم البنات، ونكاح البنات يحرم الامهات، ويدخل بنات الربيبة والربيب.
وفي الكشاف: واللمس ونحوه كالدخول عند أبي حنيفة، وأقره المصنف (وزوجة أصله وفرعه مطلقاً) ولو بعيداً دخل بها أو لا، وأما بنت زوجة أبيه أو ابنه فحلال (و) حرم (الكل) مما مر تحريمه نسبا ومصاهرة (رضاعا) إلا ما استثني في بابه.

(رد المحتار علی الدر المختار،ج : ٣،ص: ٢٨،ط:ایچ ایم سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"(الباب الثالث في بيان المحرمات) وهي تسعة أقسام: ( القسم الأول: المحرمات بالنسب) وهن الأمهات والبنات والأخوات والعمات والخالات وبنات الأخ وبنات الأخت، فهن محرمات نكاحاً ووطئاً ودواعيه على التأبيد، فالأمهات: أم الرجل وجداته من قبل أبيه وأمه وإن علون، وأما البنات فبنته الصلبية وبنات ابنه وبنته وإن سفلن، وأما الأخوات فالأخت لأب وأم والأخت لأم، وكذا بنات الأخ والأخت وإن سفلن، وأما العمات فثلاث: عمة لأب وأم وعمة لأب وعمة لأم، وكذا عمات أبيه وعمات أجداده وعمات أمه وعمات جداته وإن علون، وأما عمة العمة فإنه ينظر إن كانت العمة القربى عمة لأب وأم أو لأب فعمة العمة حرام، وإن كانت القربى عمة لأم فعمة العمة لاتحرم، وأما الخالات فخالته لأب وأم وخالته لأب وخالته لأم وخالات آبائه وأمهاته، وأما خالة الخالة فإن كانت الخالة القربى خالة لأب وأم أو لأم فخالتها تحرم عليه، وإن كانت القربى خالة لأب فخالتها لاتحرم عليه، هكذا في محيط السرخسي.

(الفتاوی الھندیۃ،ج:6،ص:454،ط:مکتبۃ حقانیۃ)

قرآن مجید میں ہے:

{وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ} [النساء:24]

فقط والله اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144110200226
تاریخ اجراء :27-05-2020

فتوی پرنٹ