1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. نکاح / طلاق
  4. مہر / جہیز / بارات

حقِ مہر کتنا ہو؟

سوال

لڑکی کا حق مہر کتنا ہونا چاہیے کہ لڑکے پر بھی بوجھ نہ ہو؟ حقِ مہر مرد کی کتنی تنخواہ کے برابر ہوتا ہے؟

جواب

حق مہر کا حساب لڑکے کی تنخواہ کے اعتبار سے نہیں کیا جاتا۔

مہر کی زیادہ سے زیادہ کوئی مقدار متعین نہیں ہے، البتہ کم از کم مقدار  دس درہم ہے،  جو آج کل کے رائج حساب سے دو تولہ پونے آٹھ ماشہ چاندی کے برابر ہے۔ اور موجودہ وزن کے مطابق  اس کی مقدار ۳۰  گرام ۶۱۸  ملی گرام ہوتی ہے۔ (اس کی قیمت بازار سے دریافت کی جاسکتی ہے)

 مہرِ مثل عورت کا حق ہے، یعنی اس لڑکی کے باپ کے خاندان کی وہ لڑکیاں جو مال، جمال، دین، عمر، عقل، زمانہ، شہر، باکرہ یا ثیبہ وغیرہ  ہونے میں اس کے برابر ہوں، ان کا جتنا مہر  تھا اس کا بھی اتنا مہر  ہے، لیکن شریعت نے فریقین کو اختیار دیا ہے کہ باہمی رضامندی سے مہرِ مثل سے کم یا زیادہ مہر مقرر کرسکتے ہیں بشرط یہ کہ وہ دس درہم سے کم نہ ہو، اس کو  ”مہرِ مسمی“ کہتے ہیں اور نکاح کے وقت فریقین جو مہر باہمی رضامندی سے طے کریں اسی  کی ادائیگی شوہر پر لازم ہوگی۔ استطاعت سے بہت زیادہ یا دکھلاوے کے لیے بہت زیادہ مہر مقرر کرنا شرعاً ناپسندیدہ ہے۔

البتہ اگر شوہر کی استطاعت ہو تو مستحب یہ ہے کہ مہرِ فاطمی مقرر کرلے، لیکن یہ ضروری نہیں ہے۔  ’’مہرفاطمی‘‘ سے مراد مہر کی وہ مقدار ہے جو  رسول اللہ ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اوردیگر صاحبزادیوں اور  اکثر ازواجِ مطہرات کے لیے مقرر فرمائی تھی، مہر فاطمی کی مقدار احادیث میں ساڑھے بارہ اوقیہ منقول ہے، اور ایک اوقیہ چالیس درھم کا ہوتا ہے، تو اس حساب سے مہر فاطمی کی مقدار پانچ سو درھم  چاندی بنتی ہے،  موجودہ دور کے حساب سے اس کی مقدار ایک سو اکتیس تولہ تین ماشہ چاندی ہے، اور گرام کے حساب سے 1.5309 کلو گرام چاندی ہے۔ 

مہر کا معجل (نقد) یا مؤجل (مؤخر) مقرر کرنا زوجین کی آپس کی رضامندی پر موقوف ہوتا ہے، چاہے سارا مہر معجل مقرر کیا جائے، چاہے سارا کا سارا مؤجل مقرر کیا جائے اور چاہے تو مہر کا کچھ حصہ معجل طے کیا جائے اور کچھ حصہ مؤجل طے کیا جائے،  یہ تمام صورتیں درست ہیں۔ فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144110200220
تاریخ اجراء :27-05-2020

فتوی پرنٹ