1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. عبادات
  3. زکوٰۃ / صدقات
  4. صدقۃ الفطر

بہن کو صدقہ فطر دینا

سوال

کیا بندہ فطرانہ اپنی بہن کو دے سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

اگر بہن مستحق ہیں یعنی ان کی ان کی ملکیت میں   ساڑھے سات تولہ سونا یاساڑھے باون تولہ چاندی یا ضرورت سے زائد  نصاب   (یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی) کے برابر  رقم نہ ہو ،یا کچھ سونا اور کچھ نقد رقم جو ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کو پہنچتی ہوان کے پاس موجود نہ ہو، اور نہ ہی  ضرورت و استعمال سے زائد  اتنا سامان ہو جس کی مالیت نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) کے برابر بنتی ہے اور نہ  ہی  وہ سید  ، ہاشمی ہیں تو انہیں صدقہ فطر دینا جائز ہے۔البتہ اگر بہن زیرِ کفالت ہو تو فطرانہ کی رقم اسے خرچے کی مد میں دینا جائز نہیں ہے، ایسی صورت میں واجب خرچ کے علاوہ فطرے کی رقم ادا کی جائے۔فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144109201778
تاریخ اجراء :10-05-2020

PDF ڈاؤن لوڈ