1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. عبادات
  3. زکوٰۃ / صدقات
  4. نفلی صدقات

مخفی صدقہ کی فضیلت اور اس کا طریقہ

سوال

مخفی صدقہ کرنے کے افضل طریقے کیا کیا ہیں؟

جواب

عام حالات میں نفلی صدقہ مخفی طور پر کرنا زیادہ افضل ہے، احادیثِ مبارکہ میں مخفی صدقہ کرنے کی بہت زیادہ فضیلت وارد ہوئی ہے،  یہاں تک کہ  قیامت کے دن جب اللہ تعالی کے عرش  کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا،  کچھ لوگ اللہ تعالی کے عرش کے سائے میں ہوں گے، ان میں وہ شخص بھی ہوگا جو اللہ کے راستے میں دائیں ہاتھ سے خرچ کرے تو بائیں ہاتھ کو بھی معلوم نہ ہو،  یعنی انتہائی مخفی طریقے سے خرچ کرے ، اسی طرح ایک حدیث میں ہے کہ  مخفی طریقہ سے صدقہ کرنا اللہ تعالیٰ کے غصہ کو ٹھنڈا کردیتا ہے۔ ایک اور حدیث میں تین طرح کے اشخاص کو  اللہ کا محبوب بتایا گیا ہے، ان میں سے ایک مخفی طور پر صدقہ کرنے والا ہے کہ جسے صدقہ دے اس کے علاوہ کسی کو پتا نہ چلے۔

  نیز مخفی طور پرخرچ کرنے میں کسی قسم کی ریا کاری کا شبہ بھی نہیں رہتا اور اعمال ضائع ہونے سے محفوظ رہتے ہیں۔ 

اس کا کوئی خاص طریقہ متعین نہیں ہے، موقع کی مناسبت سے اس کا کوئی بھی انداز اختیار کیا جاسکتاہے، پہلے زمانے میں اللہ کے نیک بندے رات کے اندھیرے میں صدقہ دیا کرتے تھے تاکہ تاریکی کی وجہ سے فقیر پہچان نہ سکے، فقیر کی عزتِ نفس بھی مجروح نہ ہو اور ریا کاری کا شبہ بھی نہ ہو، لیکن یہ طریقہ ضروری نہیں ہے، اس کے علاوہ بھی بہت سی صورتیں ممکن ہیں، کسی بھی طرح  لوگوں کے سامنے ظاہر  کیے بغیر  غریب رشتہ داروں  کی مدد کرنا، یا دینی مدارس کے مستحقین طلبہ کی امداد کرنا، یا کسی غریب ضرورت مند کی حاجت پوری کرنا یہ سب صورتیں اس میں داخل ہوسکتی ہیں۔

اس کے مقابل زکاۃ (چوں کہ فرائض میں سے ہے) اس کی ادائیگی میں ایسی جگہوں پر جہاں لوگ زکاۃ کی ادائیگی میں سستی کرتے ہوں،  وہاں  اعلانیہ ادا کرے،  اور  اس میں نیت دکھلاوے کی نہ ہو، بلکہ دوسروں کو فرض کی ادائیگی پر ابھارنا مقصود ہو  اور ایسی کوئی ضرورت نہ ہو تو  زکاۃ بھی خاموشی سے اداکی جائے۔

اسی طرح اگر مسلمانوں پر کوئی ہنگامی حالت پیش آجائے، مثلاً جنگ کا موقع ہو یا زلزلہ یا سیلاب کی مصیبت آجائے تو ترغیب کے لیے اعلانیہ چندہ کرنا (بشرطیکہ کسی پر کسی بھی قسم کا معمولی سا بھی دباؤ نہ ہو) جائز اور ثابت ہے(مثلاً غزوہ تبوک کے موقع پر)۔ 

صحيح البخاري (2/ 110):
"وقال أبو هريرة رضي الله عنه: عن النبي صلى الله عليه وسلم: «ورجل تصدق بصدقة فأخفاها، حتى لاتعلم شماله ما صنعت يمينه» وقوله: {إن تبدوا الصدقات فنعما هي، وإن تخفوها وتؤتوها الفقراء فهو خير لكم} [البقرة: 271] الآية".

المعجم الأوسط (3/ 378):
"عن بهز بن حكيم، عن أبيه، عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إن صدقة السر تطفئ غضب الرب تبارك وتعالى»".

شرح النووي على مسلم (7/ 122):
"وفي هذا الحديث فضل صدقة السر، قال العلماء: وهذا في صدقة التطوع فالسر فيها أفضل؛ لأنه أقرب إلى الإخلاص وأبعد من الرياء، وأما الزكاة الواجبة فإعلانها أفضل".

عمدة القاري شرح صحيح البخاري (8/ 284):
"{إِن تبدوا الصَّدقَات فَنعما هِيَ} (الْبَقَرَة: 172) . أَي: إِن أظهرتموا الصَّدَقَة فَنعم شَيْء هِيَ. وَقيل: فنعمت الْخصْلَة هِيَ، نزلت لما سَأَلُوا النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: صَدَقَة السِّرّ أفضل أم الْجَهْل؟ قَالَ الطَّبَرِيّ: وَرُوِيَ عَن ابْن عَبَّاس أَن قَوْله تَعَالَى: {إِن تبدوا الصَّدقَات فَنعما هِيَ} (الْبَقَرَة: 172) . إِلَى قَوْله تَعَالَى: {وَلَا خوف عَلَيْهِم وَلَا هم يَحْزَنُونَ} (الْبَقَرَة: 472) . كَانَ هَذَا يعْمل بِهِ قبل أَن تنزل بَرَاءَة، فَلَمَّا نزلت بَرَاءَة بفرائض الصَّدقَات أقربت الصَّدقَات إِلَيْهَا. وَعَن قَتَادَة: {إِن تبدوا الصَّدقَات فَنعما هِيَ وَإِن تخفوها} (الْبَقَرَة: 172) . كل مَقْبُول إِذا كَانَت النِّيَّة صَادِقَة، وَصدقَة السِّرّ أفضل. وَذكر لنا أَن الصَّدَقَة تطفىء الْخَطِيئَة كَمَا يطفىء المَاء النَّار. وَقَالَهُ أَيْضا الرّبيع، وَعَن ابْن عَبَّاس: جعل الله صَدَقَة السِّرّ فِي التَّطَوُّع تفضل علانيتها يُقَال: بسبعين ضعفا، وَجعل صَدَقَة الْفَرِيضَة علانيتها تفضل من سرها يُقَال بِخَمْسَة وَعشْرين ضعفا، وَكَذَلِكَ جَمِيع الْفَرَائِض والنوافل فِي الْأَشْيَاء كلهَا. وَقَالَ سُفْيَان: هُوَ سوى الزَّكَاة". فقط والله أعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144109201845
تاریخ اجراء :10-05-2020

PDF ڈاؤن لوڈ