1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. باہمی حقوق
  4. میاں ، بیوی کے حقوق

حمل میں جان پڑنے کی مدت، حمل کے بعد ازدواجی تعلق قائم کرنے کا حکم

سوال

حمل ٹھہرنے کے بعد بچے میں دل کی دھڑکن کتنے مہینہ میں آجاتی ہے؟ اور حمل ٹھہرنے کے بعد بیوی سے کتنے دن تک ازدواجی تعلق قائم نہیں کرنا چاہیے؟

جواب

۱)عام طور سے حمل ٹھہرنے کے تقریباً  ۴ ماہ بعد بچے میں جان پڑجاتی ہے۔

۲) حالتِ حمل میں کسی بھی وقت بیوی سے ہم بستری کرنا شرعاً جائز ہے، بلکہ فقہاء نے لکھا ہے کہ حالتِ حمل میں ہم بستری کرنے سے بچے کے بال بڑھتے ہیں اور اس کی بینائی اور سماعت بھی تیز ہوتی ہے۔ البتہ اگر خاتون کی طبی صورت حال کے پیش نظر معالج کچھ مدت تک احتیاط کا مشورہ دے تو اس پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

الدر المختار مع ردالمحتار" میں ہے:

"لئلا يسقي ماء ه زرع غيره؛ إذ الشعر ينبت منه.
(قوله: إذ الشعر ينبت منه) المراد ازدياد نبات الشعر، لا أصل نباته، ولذا قال في التبيين والكافي : لأن به يزداد سمعه وبصره حدةً كما جاء في الخبر. اهـ.
وهذه حكمته، وإلا فالمراد المنع من الوطء ؛ لما في الفتح قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لايحل لامرئ يؤمن بالله واليوم الآخر أن يسقي ماء ه زرع غيره». يعني إتيان الحبلى. رواه أبو داود والترمذي وقال:حديث حسن. اهـ. شرنبلالية". (الدر المختار مع رد المحتار (3/ 49) فقط والله أعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144109200675
تاریخ اجراء :29-04-2020

PDF ڈاؤن لوڈ