1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. عقائد
  3. اسلامی عقائد
  4. صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین

صحابی کے لیے علیہ السلام کا استعمال

سوال

کیا فاطمہ رضی اللہ عنھا کو فاطمہ علیہ السلام کہہ سکتے ہیں؟ 

جواب

’’علیہ الصلوۃ والسلام‘‘ کا استعمال اصلاً انبیاءِ کرام علیہم السلام کےساتھ مخصوص ہے، اور صحابہ کرام کے لیے "رضی اللہ عنہ " کا جملہ استعمال کیاجاتاہے اور یہی سلف صالحین کا تعامل رہاہے۔ اس لیے علیہ السلام کو انبیاء کرام اور رضی اللہ عنہ کو صحابی کے لیے ہی استعمال کرناچاہیے، البتہ انبیاءِ کرام علیہم السلام کے ذکر کے ساتھ ضمناً دیگرحضرات کا تذکرہ ہو تو انہیں بھی دعا میں شامل کرتے ہوئے ’’علیہم السلام‘‘ کا استعمال کرسکتے ہیں، مثلاً انبیاء اورصحابہ کرام کاتذکرہ ہو اورپھرسب کے لیے ’’علیہم السلام‘‘ کہاجائے تودرست ہے۔ یا صحابہ کرام کے ساتھ تابعین یا دیگر شخصیات کا ذکر ہو تو سب کے لیے ’’رضی اللہ عنہم‘‘ کا استعمال درست ہوگا۔ 

لہذا صحابی کے لیے رضی اللہ عنہ اور صحابیہ کے لیے رضی اللہ عنہا ہی استعمال کرنا چاہیے، خصوصاً جب کہ ’’علیہ السلام‘‘ کا استعمال ایک مخصوص فرقے کا شعار بن چکا ہے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نام کے ساتھ ’’علیہا السلام‘‘ کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہیے۔

مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’ملاعلی قاری رحمہ اللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ’’علیہ السلام‘‘ لکھنے کوشعارشیعہ واہل بدعت فرمایاہے، اس لیے وہ منع فرماتے ہیں...‘‘۔(فتاوی محمودیہ19/145،فاروقیہ)

ملاعلی قاری رحمہ اللہ کی عبارت مندرجہ ذیل ہے:

"أن قوله "علي علیه السلام" من شعار أهل البدعة، فلایستحسن في مقام المرام". (الفقه الأکبر، ص:167،ط:قدیمی)

حضرت مولانامحمدیوسف لدھیانوی شہیدرحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’اہل سنت والجماعت کے یہاں ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ اور ’’علیہ السلام‘‘ انبیائے کرام کے لیے لکھاجاتاہے،صحابہ کے لیے ’’رضی اللہ عنہ‘‘ لکھنا چاہیے، حضرت علی کے نامِ نامی پر’’کرم اللہ وجہہ‘‘ بھی لکھتے ہیں‘‘۔ (آپ کے مسائل اوران کاحل1/202،لدھیانوی)

البحر الرائق شرح كنز الدقائق - (8 / 555):

"ثم الأولى أن يدعو للصحابة بالرضا فيقول: "رضي الله عنهم"؛ لأنهم كانوا يبالغون في طلب الرضا من الله تعالى ويجتهدون في فعل ما يرضيه ويرضون بما لحقهم من الابتلاء من جهته أشد الرضا، فهؤلاء أحق بالرضا، وغيرهم لايلحق أدناهم ولو أنفق ملء الأرض ذهبًا. والتابعين بالرحمة فيقول: رحمهم الله، ولمن بعدهم بالمغفرة والتجاوز، فيقول: غفر الله لهم وتجاوز عنهم؛ لكثرة ذنوبهم ولقلة اهتمامهم بالأمور الدينية".

الدر المختار شرح تنوير الأبصار في فقه مذهب الإمام أبي حنيفة - (6 / 754):

"(ويستحب الترضي للصحابة) وكذا من اختلف في نبوته كذي القرنين ولقمان، وقيل: يقال: صلى الله على الأنبياء وعليه وسلم، كما في شرح المقدمة للقرماني (الترحم للتابعين ومن بعدهم من العلماء والعباد وسائر الأخيار، وكذا يجوز عكسه) الترحم للصحابة والترضي للتابعين ومن بعدهم (على الراجح) ذكره القرماني، وقال الزيلعي: الأولى أن يدعو للصحابة بالرتضي وللتابعين بالرحمة ولمن بعدهم بالمغفرة والتجاوز".

فتاوی شامی میں ہے :

"والظاهرأن علة منع السلام، ماقاله النووي في علة منع الصلاة أن ذلك شعارأهل البدع". (شامی۶/۷۵۳)

"ولافرق بین السلام علیه وعلیه السلام إلا أن قوله: علي علیه السلام من شعار أهل البدعة، فلایستحسن في مقام المرام". (فتاوی محمودیه ۱۳/ ۴۲۳ بحواله شرح فقه أکبر ص ۲۰۴)

مفتی رشیداحمدلدھیانوی رحمہ اللہ احسن الفتاویٰ میں لکھتے ہیں:

’’لفظ علیہ الصلاۃ والسلام’’انبیاء وملائکہ علیہم الصلاۃ والسلام کے ساتھ خاص ہے،غیرانبیاء کے لئے اس کااستعمال جائزنہیں،لہذا حسین علیہ الصلاۃ والسلام یاعلی علیہ الصلاۃ والسلام کہناجائزنہیں ۔البتہ تبعاً استعمال کرناجائزہے،یعنی کسی نبی کے نام کے بعد آل نبی یاصلحاء کاذکرآجائے توسب کے لئے علیہم الصلاۃ والسلام کہناجائزہے‘‘۔ (احسن الفتاویٰ 9/35،ط:سعید) فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144109202452
تاریخ اجراء :16-05-2020

PDF ڈاؤن لوڈ