1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. متفرق کتب
  3. متفرق ابواب
  4. متفرق فصول

چوری کا مال واپس کرنا

سوال

میں ایک جگہ کام کرتا تھا اور وہاں سے چوری کرتا تھا، لیکن بعد میں میں نے مال کے مالک سے معافی مانگ لی، اس نے مجھے معاف کردیا اور مال واپس نہیں مانگا، میرے پاس پوری رقم واپسی کی موجود نہیں۔ اب میں کیا کروں؟

جواب

مال کے مالک کا حق ہے کہ وہ آپ سے اس رقم کا مطالبہ کرسکتا ہے، البتہ اگر وہ خود ہی معاف کردے اور نہ مانگے یا آپ کو بری کردے، تو عند اللہ بھی آپ بری ہوں گے، ان شاء اللہ۔ لہٰذا اگر آپ نے اس حوالے سے بھی معافی مانگی تھی اور مالک نے صراحتاً یا اشارۃً مال بھی معاف کردیا تو آپ کے ذمے اس کی ادائیگی شرعاً واجب نہیں ہوگی، بصورتِ دیگر تھوڑی تھوڑی کرکے رقم ادا کردیں۔

الموسوعة الفقهية الكويتية (24/ 343):
"اتفق الفقهاء على أن التوبة النصوح، أي الندم الذي يورث عزما على إرادة الترك تسقط عذاب الآخرة عن السارق  ، ولكنهم اختلفوا في أثر التوبة على إقامة حد السرقة". فقط والله أعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144109202924
تاریخ اجراء :19-05-2020

PDF ڈاؤن لوڈ