1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. ممنوعات و مباحات
  3. ادعیہ / اذکار
  4. استخارہ

استخارہ میں کوئی اشارہ نہ ملے تو کیا حکم ہے؟

سوال

اگر استخارہ میں کچھ بھی اشارہ نہ ملے تو اس کا کیا مطلب ہے ؟

جواب

استخارے میں واضح اشارہ ملنا یا خواب آنا ضروری نہیں ہے، بلکہ استخارہ کے  بعد  جس طرف دل مائل ہو وہ کام کرلیا جائے، اگر ایک دفعہ میں قلبی اطمینان حاصل نہ ہو تو سات دن تک یہی عمل دہرائے، ان شاء اللہ خیر ہوگی، حاصل یہ ہے کہ استخارہ میں اصل بات قلبی رجحان اور اطمینان ہے۔ اور بعض اوقات قلبی رجحان استخارے کے بعد متعلقہ چیز کے مفاسد یا فوائد واضح ہوجانے سے بھی ہوجاتاہے۔

استخارہ کی تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر جامعہ کا فتویٰ ملاحظہ فرمائیں:

استخارہ کے کتنے طریقے ہیں؟ تسبیحات اور اعداد و شمار کے ذریعہ استخارہ کرنے کا حکم

فقط والله اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144109203007
تاریخ اجراء :20-05-2020

PDF ڈاؤن لوڈ