1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. معاملات
  3. سود / بینکاری / انشورنس / شیئرز
  4. اسلامی بینکاری

میزان بینک میں انوسٹمنٹ کرکے ماہانہ منافع حاصل کرنا

سوال

میزان بینک میں انوسٹمنٹ کرکے ماہانہ منافع حاصل کرنا جائز ہے؟  کیا یہ منافع حلال ہے ؟ نیز اسلامی بینکاری کے لیے کون کون سے بینک موزوں ہیں ؟

جواب

 میزان بینک یا  مروجہ غیر سودی بینکوں میں بھی سرمایہ کاری کرنا جائز نہیں ہے،  ملک کے اکثر جید اور مقتدر مفتیانِ کرام  کی رائے یہ ہے کہ  مروجہ غیر سودی بینکوں کا طریقہ کار شرعی اصولوں کے مطابق نہیں ہے،  اور مروجہ غیر سودی بینک اور  روایتی بینک کےبہت سے  معاملات درحقیقت ایک جیسے ہیں، لہذا روایتی بینکوں کی طرح ان سے بھی  تمویلی معاملات کرنا جائز نہیں ہے۔  ضرورت پڑنے پر صرف ایسا اکاؤنٹ کھلوایا جاسکتا ہے جس میں منافع نہ ملتا ہو، مثلاً: کرنٹ اکاؤنٹ یا لاکرز وغیرہ۔ فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتوی ملاحظہ فرمائیں:

مروجہ اسلامی بینکاری اوربنوری ٹاؤن کامؤقف

مروجہ اسلامی بینکوں میں سیونگ اکاؤنٹ کھولنے کے جائز نہ ہونے کی علت


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144109203008
تاریخ اجراء :20-05-2020

PDF ڈاؤن لوڈ