1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. عبادات
  3. نماز
  4. جمعہ و عیدین

حالات کی وجہ سے گھر میں عید کی نماز پڑھنا

سوال

موجودہ حالات میں گھر میں عید کی نماز پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ عید کی نماز دین کے شعائر میں سے بنیادی شعار ہے، اورعید کی نماز سے مقصود مسلمانوں کی شان و شوکت اور قوت کا اظہار ہے، یہی وجہ ہے کہ عید کی نماز عید گاہ میں پڑھنا مسنون ہے ، تاکہ زیادہ سے زیادہ مسلمان ایک جماعت میں شریک ہوسکیں۔

 شہر، فنائے شہر اور بڑے گاؤں میں جہاں جمعہ قائم کرنے کی شرائط پائی جاتی ہیں وہاں عید کی نماز  جماعت کے ساتھ  پڑھنا واجب ہے۔

جن ممالک  میں حکومت کی طرف سے مساجد یا عید کی نمازوں پر پابندی نہ ہو  وہاں گھروں میں عید کی نماز ادا کرنے کے بجائے عیدگاہ یا بڑےمجمع میں  یا مساجد میں ادا کرنے کا اہتمام ضروری ہے؛ تاکہ مسلمانوں کی شان وشوکت اظہار ہو۔

البتہ  اگر کسی ملک میں موجودہ حالات کی وجہ سے  حکومت نے عید گاہ یا مسجد میں عید کی نماز پڑھنے پر پابند ی لگائی ہو تو   شہر، فنائے شہر یا بڑے گاؤں کے رہنے والے مسلمان ممکنہ حد تک کوشش کریں کہ وہ عید کی نماز عید گاہ میں یا مسجد میں پڑھ سکیں، لیکن اگرعید کی نماز عید گاہ یا مسجد میں پڑھنا بالکل ممکن نہ ہو تو  گھر کی چھت، صحن یا بلڈنگ کی پارکنگ وغیرہ میں چند افراد جمع ہو کر عید کی نماز پڑھ لیں۔فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ فرمائیں:

عید کی نماز گھر میں پڑھنا


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144109203011
تاریخ اجراء :20-05-2020

PDF ڈاؤن لوڈ