1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. نکاح / طلاق
  4. طلاق کو معلق کرنا

بیوی کو ” اگر یہ کام کیا تم مجھ پر حرام ہو“ کہنے کا حکم

سوال

اگر شوہر بیوی سے کہیں: ’’اگر یہ کام کیا تم مجھ پر حرام ہو ‘‘ تو کیا طلاق ہو جائے گی؟  اور کیا ایک طلاق ہوگی یا تین طلاق ہوں گی؟ اگر ایک ہے تو  کیا رجوع کرسکتے ہیں اور اس کا طریقہ کیا ہے رجوع کرنے کا؟  اگر عدت ختم نہیں ہوئی ہو اور اگر عدت ختم ہو گئی ہو تو  کیا دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں شوہر کا بیوی سے یہ کہنا کہ ”اگر یہ کام کیا تم مجھ پر حرام ہو“ طلاق کو اس کام پر معلق کرنا ہے، اور بیوی کو اپنے اوپر حرام کرنے سے بغیر نیت کے طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے، لہذا اگر مذکورہ شخص کی بیوی نے  وہ کام کرلیا  جس پر شوہر نے طلاق کو موقوف کیا تھا تو اس پر ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی،  اور نکاح ختم ہوجائے گا، اب اگر عدت کے دوران یا عدت گزرنے کے بعد میاں بیوی دونوں باہم رضامندی سے دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو  نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں تجدید نکاح کرسکتے ہیں، نکاح کے بعد آئندہ کے لیے شوہر کے پاس دو طلاق کا اختیار باقی رہے گا۔

اور اگر بیوی نے وہ کام ہی نہیں کیا تو اس پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 252):

"ومن الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام فيقع بلا نية للعرف.

 (قوله: فيقع بلا نية للعرف) أي فيكون صريحاً لا كنايةً، بدليل عدم اشتراط النية وإن كان الواقع في لفظ الحرام البائن؛ لأن الصريح قد يقع به البائن كما مر، لكن في وقوع البائن به بحث سنذكره في باب الكنايات، وإنما كان ما ذكره صريحاً؛ لأنه صار فاشياً في العرف في استعماله في الطلاق لايعرفون من صيغ الطلاق غيره ولايحلف به إلا الرجال، وقد مر أن الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لايستعمل عرفاً إلا فيه من أي لغة كانت، وهذا في عرف زماننا كذلك فوجب اعتباره صريحاً كما أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية مع أن المنصوص عليه عند المتقدمين توقفه على النية". فقط والله أعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144109203024
تاریخ اجراء :20-05-2020

PDF ڈاؤن لوڈ