1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. عبادات
  3. ذبیحہ / قربانی
  4. قربانی ، وجوب اور عدم وجوب ، مستحبات و آداب

بیوی کی طرف سے قربانی کرنا

سوال

میری بیوی پر قربانی واجب ہے، لیکن میں اپنی قربانی کرنے کے ساتھ  ساتھ اپنی بیوی کی بھی قربانی اپنے پیسوں سے کرنا چاہتا ہوں، جب کہ میری بیوی کے پاس قربانی کے پیسے موجود ہیں تو کیا میرا بیوی کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہوگا ؟ کیا بیوی کے ذمہ سے اس طرح قربانی ادا ہوجائے گی ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  آپ کا  اپنی خوشی ورضامندی سے اپنی رقم  سے اپنی قربانی کے ساتھ اپنی بیوی کی طرف سے اسے بتا کر اس کی اجازت سے قربانی کرنا جائز ہے اور یہ قربانی آپ کی بیوی کی طرف سےادا ہوجائے گی، اور بیوی پر الگ سے اپنے پیسوں سے  دوبارہ قربانی کرنا لازم نہیں ہوگا۔  

الفتاوى الهندية (5 / 302):
"ولو ضحى ببدنة عن نفسه وعرسه وأولاده ليس هذا في ظاهر الرواية، وقال الحسن بن زياد في كتاب الأضحية: إن كان أولاده صغاراً جاز عنه وعنهم جميعاً في قول أبي حنيفة وأبي يوسف - رحمهما الله تعالى -، وإن كانوا كباراً إن فعل بأمرهم جاز عن الكل في قول أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى". 
 فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144111200318
تاریخ اجراء :27-06-2020

PDF ڈاؤن لوڈ