1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. باہمی حقوق
  4. اولاد کے حقوق

زندگی میں جائیداد تقسیم کرنا

سوال

ایک شخص اپنی زندگی میں جائیداد تقسیم کرنا چاہتا ہے، اس کے والدین فوت ہو چکے ہیں، وہ اپنے اور اپنی بیوی کے لیے جائیداد میں سے کتنا حصہ رکھ سکتا ہے اور بقیہ تین بیٹوں اور ایک بیٹی کو کیسے تقسیم کرے؟

جواب

ہر شخص اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کا خود مالک  و مختار ہوتا ہے، وہ ہر جائز تصرف اس میں کرسکتا ہے، کسی کو یہ حق نہیں  ہے کہ اس کو اس کی اپنی ملک میں تصرف  کرنے سے منع کرے، نیز والدین کی زندگی میں اولاد وغیرہ کا اس کی جائیداد میں حصہ  نہیں  ہوتا اور نہ ہی کسی کو مطالبہ کا حق حاصل  ہوتا، تاہم اگر صاحبِ جائیداد اپنی  زندگی میں  اپنی جائیداد  خوشی  و رضا سے اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو کرسکتا ہے اور اپنی زندگی میں جو جائیداد تقسیم کی جائے  وہ ہبہ (گفٹ) کہلاتی ہے اور اولاد کے درمیان ہبہ (گفٹ) کرنے میں برابری ضروری ہوتی ہے، رسول اللہ ﷺ نے اولاد کے درمیان ہبہ کرنے میں برابری کرنے کا حکم دیا، جیساکہ نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ کی  روایت میں ہے:

"و عن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه» و في رواية ...... قال : «فاتقوا الله و اعدلوا بين أولادكم»".  

(مشکاۃ  المصابیح،باب العطایا 1/ 261ط: قدیمی)

ترجمہ: حضرت نعمان بن بشیر  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر رضی اللہ عنہ) انہیں رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے  اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہدیہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا:  ”نہیں“، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ ……  آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔

(مظاہر حق،باب العطایا  3/ 393   ط: دارالاشاعت)

لہذا بصورتِ مسئولہ اگر کوئی شخص اپنی زندگی ہی میں اپنی جائیداد اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے اس قدر رکھ لے جس سے بقیہ زندگی بغیر محتاجگی کے گزار سکے اور بہتر یہ ہے کہ بیوی کو جائیداد کا آٹھواں حصہ دے، اس کے بعد  باقی جائیداد تمام اولاد (بیٹے اور بیٹیوں) میں برابر برابر تقسیم کرے، بلا وجہ کسی کو  کم اور کسی کو زیادہ نہ دے ، البتہ اگر کسی کو فرمانبرداری، خدمت، دین داری یا محتاجگی کی وجہ سے زیادہ دینا چاہے تو اس کی گنجائش ہے،تقسیم کر کے ہر ایک کو اس کا حصہ علیحدہ کرکے اس  پر مکمل قبضہ اور تصرف کا اختیار بھی دے دے۔

"ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم".

(الدر المختار وحاشية ابن عابدين 5/ 696 ط: سعيد)

"و علی جواب المتأخرین لا بأس بأن یعطی من أولاده من کان متأدباً".

(الفتاوي التتارخانية ج: 3/ 462 ط:زکریا هند)

"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل".

(الدر المختار وحاشية ابن عابدين 5/ 690 ط:سعيد) فقط و اللہ أعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144203200791
تاریخ اجراء :31-10-2020

فتوی پرنٹ