1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. معاملات
  3. وراثت / وصیت
  4. ورثاء اور ان کے حصص

بیوہ ، چار بیٹے اور سات بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم

سوال

ایک شخص نے وفات پائی ہے اور ورثاء میں بیوہ، 4 بیٹے اور  7 بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ وراثت کی تقسیم کیسے ہو گی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ  مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیزوتکفین کے  اخراجات نکالنے کے بعد، مرحوم کے ذمہ اگر کسی کا قرض ہو تو اسے کل ترکہ میں سے ادا کرنے کے بعد، مرحوم نے اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی ترکہ میں سے ادا کرکے باقی کل منقولہ وغیر منقولہ ترکہ کو  120 حصوں میں تقسیم کرکے 15 حصے مرحوم کی بیوہ کو، 14،14 حصے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو اور 7،7 حصے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔

یعنی 100 روپے میں سے 12.50 روپے مرحوم کی بیوہ کو، 11.66 روپے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو اور  5.83 روپے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144203200827
تاریخ اجراء :01-11-2020

فتوی پرنٹ