1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. معاملات
  3. وراثت / وصیت
  4. ورثاء اور ان کے حصص

میت کے بیٹے کے ہوتے ہوئے بھائی کو میراث ملنے کا حکم

سوال

مرحومہ کا ایک بیٹا اور دو بھائی ہیں، تو کیا وراثت میں بھائیوں کو بھی حصہ ملے گا؟ اگر حصہ ملے گا تو کتنا دیا جائےگا؟

جواب

بصورتِ مسئولہ مرحومہ  کے بیٹے کی موجودگی میں اس کی میراث میں  اس کے بھائی کوحصہ نہیں ملے گا،اب اگر مرحومہ کے ورثا  میں صرف بیٹا ہے تو مرحومہ کی مکمل میراث بیٹے کو ملےگی اور اگر دیگر ورثابھی موجود ہیں تو میراث تقسیم کرنے کے لیے  ان کی نشان دہی کرکے سوال ارسال کرسکتے ہیں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

’’و هم كل من ليس له سهم مقدر و يأخذ ما بقي من سهام ذوي الفروض و إذا انفرد أخذ جميع المال، كذا في الاختيار شرح المختار.

فالعصبة نوعان: نسبية وسببية، فالنسبية ثلاثة أنواع: عصبة بنفسه وهو كل ذكر لا يدخل في نسبته إلى الميت أنثى وهم أربعة أصناف: جزء الميت وأصله وجزء أبيه وجزء جده، كذا في التبيين فأقرب العصبات الابن.‘‘

(كتاب الفرائض، الباب الثالث في العصبات، ج:6، ص:451، ط:مكتبه رشيديه) فقط و الله أعلم 


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144203200797
تاریخ اجراء :31-10-2020

فتوی پرنٹ