1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. عبادات
  3. طہارت
  4. جنابت ، حیض اور نفاس کے احکام

حالت حیض میں قرآن پڑھنا

سوال

کیا حائضہ قرآن اور دیگر اعتراف پڑھ سکتی ہے؟

جواب

خواتین کے لیے ماہوری کے دنوں میں قرآن کریم نہ دیکھ کر پڑھنا جائز ہے اور نہ ہی زبانی پڑھنے یا سنانے کی اجازت ہے، جیساکہ "سننِ ترمذی" میں بروایتِ عبد اللہ بن عمر  رضی اللہ عنہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان منقول ہے کہ حائضہ (وہ خاتون جو حیض کے ایام میں ہو) اور جنبی ( وہ مرد جس پر غسل فرض ہو) قرآن مجید میں سے کچھ بھی نہیں پڑھ سکتے۔

البتہ اگر حافظہ لڑکی کو قرآنِ مجید بھولنے کا خطرہ ہو تو وہ یہ کرسکتی ہے کہ مصحف کو کسی حائل سے کھول کر اس میں دیکھتی جائے اور زبان سے تلفظ کیے بغیر دل ہی دل میں دہراتی جائے۔

قرآنِ مجید کے علاوہ دیگر اوراد و اَذکار، درود شریف وغیرہ ان ایام میں پڑھ سکتی ہے۔نیز قرآنِ پاک کی وہ آیات جو دعا کے معنٰی پر مشتمل ہیں انہیں دعا کی نیت سے پڑھ سکتی ہے، جیسے ربنا آتنا، اور سورۂ فاتحہ وغیرہ۔

سوال میں مذکور لفظ "اعتراف " واضح نہیں ۔

"عن إبن عمر رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه وسلم قال: لا تقرأ الحائض و لا الجنب شيئاً من القرآن".

(باب ما جاء في الجنب و الحائض أنهما لا يقرآن القرآن، رقم الحديث: ١٣١، ط: دار السلام)

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144203200848
تاریخ اجراء :02-11-2020

فتوی پرنٹ