1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. باہمی حقوق
  4. اولاد کے حقوق

بچی کا نام سنایہ رکھنا

سوال

"سنایہ" نام رکھنا کیسا هے؟ کیا"سنایہ"کے معنی "مکمل چیز" ہیں؟ لغت میں یہ لفظ نہیں ملا، لیکن اس ویب سائٹ پر یہ نام فہرست میں موجود هے۔ کیا میں یہ بیٹی کا نام رکھ لوں؟

جواب

"سنایہ" (سِنَايَة)  کے معنی ہیں: تمام (مکمل) چیز، پوری کی پوری،  جیسے کہا جاتا ہے  "أخذته بسنايته" میں نے اس کو سارا کا سارا (یعنی مکمل) لے لیا۔ (المنجد ، ص 400، ط: خزینہ علم وادب ، لاہور)

نيز اس كا ایک معنی سیراب کرنا بھی آتا ہے۔

بچی کا یہ نام رکھنا جائز ہے۔

تاج العروس (38 / 318):

"والسُّنُوُّ، كعُلُوَ،} والسِّنايَةُ والسِّناوَةُ، بكسْرِهما: السَّقْي".

القاموس المحيط (1 / 1297):

"والقَوْمُ يَسْنونَ لأنْفُسِهِم: إذا اسْتَقَوْا. والأرضُ مَسْنُوَّةٌ ومَسْنِيَّةٌ.

وأخَذَهُ بِسِنايَتِهِ: كُلَّهُ".

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144203200949
تاریخ اجراء :03-11-2020

فتوی پرنٹ