1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. ممنوعات و مباحات
  3. قسم / منت
  4. قسم و کفارات

قسم کے کفارہ میں غریبوں کو کھانا کھلانے کی استطاعت کے باوجود تین دن روزہ رکھنے کا حکم

سوال

اگر ایک شخص دس مسکینوں کو کھانا کھلانے کی طاقت رکھنے کے باوجود تین دن روزے رکھے، تو کیا قسم کا کفارہ ادا ہو جائے گا؟

جواب

واضح رہے قسم کا کفارہ یہ  ہے کہ  دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلادیاجائے،  یا دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو صدقۃ الفطر کی مقدار کے بقدر گندم یا اس کی قیمت دے دی جائے، ( یعنی پونے دو کلو گندم یا اس کی رقم )،  یا دس فقیروں کو  ایک ایک جوڑا کپڑا پہنا دیاجائے، یا ایک غلام آزاد کیاجائے، نیز ان تینوں میں سے اختیار ہے جس سے چاہے کفارہ ادا کرے، اور اگر کفارہ ادا کرنے والے کو ان تینوں میں سے کسی ایک کے ادا کرنے پر بھی قدرت نہ ہو تو تین دن لگاتار روزے رکھے۔

بصورتِ مسئولہ کفارہ اداکرنے والے کے لیے دس  غریبوں کو کھانا کھلانے کی قدرت کے ہوتے ہوئے تین دن روزہ رکھنے سے کفارہ ادا نہیں ہوگا، بلکہ حسبِ قدرت  غریبوں کو کھانا کھلائے یا کپڑے کے جوڑے دے دے۔

قرآنِ مجید میں ہے:

{لَا يُؤَاخِذُكُمْ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ ْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُمُ الأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ} [المائدة: 89]

فقط والله اعلم 


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144203200980
تاریخ اجراء :04-11-2020

فتوی پرنٹ