1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. معاملات
  3. سود / بینکاری / انشورنس / شیئرز
  4. بیمہ زندگی / انشورنس / تکافل

ای ایف یو حمایہ تکافل جائز نہیں

سوال

کیا ای ایف یو حمایہ تکافل جائز ہے؟ اگر ہے تو کیسے؟

جواب

جمہور علماءِ کرام  کے نزدیک  کسی بھی قسم     کی بیمہ  (انشورنس  ) پایسی سود اور قمار (جوا) کا مرکب ومجموعہ ہونے کی وجہ سے  ناجائز  اور حرام ہے، اور مروجہ انشورنس  کے متبادل  کے طور پر  بعض ادارے  جو "تکافل  " کے عنوان سے  نظام چلا رہے ہیں، اس میں بھی سود، جوا اور غرر وغیرہ  خرابیاں موجود ہیں، اوراس نظام سے متعلق  اکثر جید  اور مقتدر علماءِ کرام  کی رائے  عدم جواز کی ہے،  لہذا " ای ایف یو حمایہ تکافل  کمپنی" اور موجودہ  دور میں اس جیسی جتنی دیگر کمپنیاں کام کررہی   ہیں، اس کی   پایسیاں  لینے اور اس میں  رقم جمع کرانے سے اجتناب لازم ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"الغرر هو الخطر الذي استوى فيه طرف الوجود والعدم بمنزلة الشك."

(فصل في شرائط  الصحة في البیوع/ج:11/ص:186/ط:بیروت)

شرح  صحیح البخاری لابن بطال میں ہے:

"(وتوعد تعالى من لم يتب منه بمحاربة الله ورسوله وليس فى جميع المعاصى ما عقوبتها محاربة الله ورسوله غير الربا، فحق على كل مؤمن أن يجتنبه، ولايتعرض لما لا طاقة له به من محاربة الله ورسوله ، ألا ترى فهم عائشة هذا المعنى حيث قالت للمرأة التى قالت لها : بعت من زيد من أرقم جارية إلى العطاء بثمانمائة درهم ، ثم ابتعتها منه بستمائة درهم نقدًا ، فقالت لها عائشة: بئس ما شريت ، أبلغى زيدًا أنه قد أبطل جهاده مع رسول الله إن لم يتب. ولم تقل لها : إنه أبطل صلاته ولا صيامه ولا حجه ، فمعنى ذلك - والله أعلم- أن من جاهد فى سبيل الله فقد حارب عن الله، ومن فعل ذلك ثم استباح الربا، فقد استحق محاربة الله."

(کتاب البیوع/ج:6/ص:219/ط:مکتبۃ الرشد السعودیہ)

الاختیار میں ہے:

"قوله عليه الصلاة والسلام: " كل قرض جر منفعة فهو ربا."

(کتاب البیوع/ج:2/ص:34/ ط: دارالکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144112201248
تاریخ اجراء :10-08-2020

فتوی پرنٹ