1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. معاملات
  3. ملازمت
  4. جائز اور ناجائز ملازمت

اپنی جگہ کسی دوسرے سے ملازمت کروانا

سوال

 ہمارے چچا نے گورنمنٹ کو مفت زمین دی ہے، جس پر حکومت نے ٹیوب ویل لگائی، اور میرے چچا کو دو نوکریاں دی، جس میں میرے چچا نے ایک چوکیدار کی نوکری میرے نام کر دی، جس کی تنخواہ میرے چچا لیتے ہیں اور ڈیوٹی کے لیے اس نے تنخواہ پر ایک بندے کو رکھا ہوا ہے، یعنی میں بذاتِ خود ڈیوٹی نہیں کر تا ہو، بلکہ میری جگہ وہ بندہ ڈیوٹی کرتا ہے جس کو میرے چچا نے تنخواہ پر رکھا ہے، میں بس صرف تنخواہ لے کے چاچا کو دے دیتا ہوں، اب آپ حضرات راہ نمائی فرمائیے:

1- کیا اس طرح تنخواہ لینا جائز ہے؟

2-  کیا میرے لیے ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں گورنمنٹ نے آپ کے چچا کو نوکری پر کسی تعلق والے  مناسب شخص کو رکھوانے کا اختیار دیا جس کو انہوں نے آپ کے حق میں وصول کیا، اب اگر ملازمت کا معاہدہ آپ سے ہوا یعنی سرکاری کاغذات میں آپ کا نام ہے تو آپ کا اپنی جگہ  کسی اور کو بھیجنا سرکاری اجازت کے بغیر جائز نہیں  ہے۔ آپ سرکار کے علم میں یہ لائیں اورپھر بھی اجازت ہو تو پھر اس طرح کیا جاسکتا ہے، بصورتِ دیگر اس کی شرعًا اجازت نہیں ہے۔

الفتاوى الهندية (4/ 411):

"وأما في حق الأجير الخاص فلايشترط بيان جنس المعمول فيه ونوعه وقدره وصفته وإنما يشترط بيان المدة فقط وبيان المدة في استئجار الظئر شرط الجواز بمنزلة استئجار العبد للخدمة. ومنها أن يكون مقدور الاستيفاء - حقيقة أو شرعًا فلايجوز استئجار الآبق ولا الاستئجار على المعاصي؛ لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعًا."

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144202201482
تاریخ اجراء :17-10-2020

فتوی پرنٹ