1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. نکاح / طلاق
  4. طلاق - وقوع اور عدم وقوع

طلاق کے وسوسے سے طلاق کا حکم

سوال

 مجھے ہر وقت طلاق کے وسوسے آتے ہیں، میں غیر شادی شدہ ہوں، معلق طلاق والے وسوسے آتے ہیں، کبھی شیطان اتنا سخت وسوسہ دیتے ہیں کہ دل میں آتا ہے ہوگیا، جب میں باتیں کرتا ہوں تو زبان پر باتیں اور دل میں طلاق دیتا ہوں، اتنا تنگ آچکا ہوں کہ کیا کروں، اور جب مسئلہ پوچھتا ہوں تو شیطان کہتا ہے آپ نے تو  طلاق دی ہے، پھر میرا ذہن خلط ملط ہوجاتا ہے، اب شیطان کہتا ہے  مجھے دل میں کہ آپ کسی سے نکاح نہیِں کرسکتے، اگر کیا تو حیات تک آپ زنا کروگے معاذاللہ، اتنا تنگ آگیا ہوں کہ اپنے لیے موت کی دعا کرتا ہوں!

جواب

بصورتِ مسئولہ محض طلاق کے وسوسے آنے سے کسی بھی طرح کی کوئی طلاق شرعاً واقع نہیں ہوتی، تاہم  جب بھی ایسا وسوسہ آجائے تو اس کی پرواہ نہ کریں، بلکہ  فوراً  "أعوذ باللہ من الشیطن الرجیم" پڑھیں اور اپنے آپ کو کسی کام میں مصروف کرلیں۔ اگر اس تدبیر پر عمل ہوجائے تو ان شاء اللہ وسوسہ کی بیماری ختم ہوجائے گی۔نیز  "لاحول ولا قوۃ إلا باللہ " کا کثرت کے ساتھ ورد کریں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وعن الليث لايجوز طلاق الموسوس قال: يعني المغلوب في عقله، وعن الحاكم هو المصاب في عقله إذا تكلم يتكلم بغير نظام كذا في المغرب".

(كتاب المرتد، ج:4، ص:224، ط:ايج ايم سعيد)

فقط والله اعلم 


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144205200207
تاریخ اجراء :21-12-2020

فتوی پرنٹ