1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

طلاق کی عدت گزرنے کے بعد ہم بستری کرنے کا حکم

سوال

بیوی کو طلاق دی ہو، اور طلاق کی عدت بھی پوری ہوچکی ہو، پھر اس کے ساتھ اگر وہی شوہر ہم بستری کرلے، تو کیا یہ نکاح کے زمرے میں آئےگا، یا زنا کے زمرے میں آئےگا؟ اور کیا ہم بستری کرنے سے بیوی نکاح میں آجاتی ہے یا نہیں، اگر طلاق کی عدّت پوری ہوگئی ہو؟

جواب

بصورتِ مسئولہ سوال میں ذکر کردہ طلاق سے مراد اگر پہلی یا دوسری طلاقِ رجعی ہے اور شوہر نے طلاق دینے کے بعد رجوع نہیں کیا، تو عدت گزرنے کے بعد چوں کہ نکاح ختم ہوجاتاہے، اور دونوں میاں بیوی اجنبی بن جاتے ہیں، لہذا اس کے بعد کی گئی ہم بستری زنا شمار ہوگی، نیز محض ہم بستری کرنے سے بیوی نکاح میں نہیں آتی، بلکہ اگر دونوں گواہوں کی موجودگی میں  نئے مہر کے ساتھ نکاح کی تجدید کریں گے تو میاں بیوی بن جائیں گے۔

اور اگر طلاق سے مراد تیسری طلاق ہے تو نکاح ختم ہونے کے ساتھ ساتھ بیوی شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام بھی ہوجائےگی، اس صورت میں بھی ہم بستری زنا شمار ہوگی، نیز اس کے بعد محض تجدیدِ نکاح سے بھی دونوں میاں بیوی نہیں بنیں گے، بلکہ عدت گزرنے کے بعد اگر وہ دوسری جگہ نکاح کرتی ہے اور دوسرا شوہر ہم بستری کے بعد از خود طلاق دے دیتاہے یا اس کا انتقال ہوجاتا ہے اور اس کی عدت بھی گزر جاتی ہے تو پہلے شوہر سے نئے مہر کے تقرر کے ساتھ نکاح  جائز ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة) أي عدة الدخول حقيقة".

(باب الرجعة، ج:3، ص:397، ط:ايج ايم سعيد)

فتاوی شامی میں ہے:

"وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع".

(مطلب فى المبانة على العقد، ج:3، ص:409، ط:ايج ايم سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن كان الطلاق ثلاثًا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجًا غيره نكاحًا صحيحًا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية".

(الفتاوی الهندیة، ج:3، ص: 473، ط: ماجدية)

فقط والله اعلم 


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144205200254
تاریخ اجراء :22-12-2020

فتوی پرنٹ