1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. عبادات
  3. طہارت
  4. وضو،فرائض،سنن،آداب اور وضو توڑنے والی اشیاء

دورانِ وضو، ناقضِ وضو پیش آنے کا حکم

سوال

دوران وضو اگر وضو ٹوٹ جاتا ہے، مثلاً اگر بازؤوں  یا سر کا مسح کر رہے ہوں اور وضو ٹوٹ جاتا ہے تو کیا پھر شروع سے وضو کیا جائےگا یا اسی وضو کو جاری رکھیں گے؟ 

جواب

اگر  وضو کرنے کے دوران وضو توڑنے والی کوئی چیز پیش آگئی، مثلاً ہوا خارج ہوگئی  تو دوبارہ شروع سے وضو کرنا لازم ہوگا، البتہ اگر کوئی شخص شرعی معذور ہو تو اس کے لیے  دوبارہ وضو کرنا لازم نہیں ہے۔

شرعی معذور کا مطلب یہ ہے کہ  کسی شخص کو  مثلاً ہوا خارج ہونے یا قطروں وغیرہ کی بیماری اتنی زیادہ ہو کہ کسی نماز کے مکمل وقت میں اس کو اتنا وقت نہ ملے کہ  وہ وضو کرکے اس بیماری سے   وضو ٹوٹے   بغیر وقتی فرض نماز پڑھ سکے تو ایسا شخص شرعاً معذر کے حکم میں ہوتا ہے، اور جب تک کسی نماز کا مکمل وقت اس عذر کے بغیر نہ گزر جائے وہ معذور شمار کیا جاتاہے۔

شرعی  معذور کا حکم یہ ہے کہ ہر نماز کا وقت داخل ہونے  کے بعد ایک مرتبہ وہ  وضو کرلے اور نماز پڑھے، اگر وضو کے بعد  جس بیماری کی وجہ سے معذور کے حکم میں ہوا ہے   کے  علاوہ کوئی اور وضو ٹوٹنے والی چیز  صادر ہو تو دوبارہ وضو کرنا ہوگا، ورنہ ایک نماز کے وقت میں دوبارہ  وضو کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، خواہ وضو کے دوران ہی یہ عذر باربار پیش آئے۔

الفقه على المذاهب الأربعة (1/ 49):

’’ومنها: أن لايوجد من المتوضئ ما ينافي الوضوء مثل أن يصدر منه ناقض للوضوء في أثناء الوضوء. فلو غسل وجهه ويديه مثلاً ثم أحدث فإنه يجب عليه أن يبدأ الوضوء من أوله. إلا إذا كان من أصحاب الأعذار‘‘. 

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144201200394
تاریخ اجراء :27-08-2020

فتوی پرنٹ