1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. نکاح / طلاق
  4. نکاح - صحیح و فاسد

مفقود کی بیوی کا نکاح

سوال

اگر کسی عورت کا خاوند لاپتا ہوجائے اور اس کی کوئی خبر نہ ملے تو اس کو اگلی شادی کے لیے کتنی مدت انتظار کرنا چاہیے؟

جواب

 مفقود کی بیوی کے لیے اصل حکم تو یہ ہے کہ وہ عفت وعصمت کے ساتھ اپنی زندگی گزارے، لیکن اگر وہ مفقود شوہر کے نکاح  سے رہائی حاصل کرنا چاہے تو درج ذیل صورت اختیار کرکے حاصل کرنے کی اجازت ہے:
    مفقود کی بیوی اپنا مقدمہ مسلمان قاضی کی عدالت میں پیش کرے اور گواہوں سے ثابت کرے کہ میرا نکاح فلاں شخص کے ساتھ ہوا تھا، پھر گواہوں سے اس کا مفقود اور لاپتا ہونا ثابت کرے، اس کے بعد قاضی خود اپنے طور پر اس کی تفتیش وتلاش کرے، جہاں اس کے جانے کا غالب گمان ہو وہاں آدمی بھیجا جائے، اور جس جس جگہ جانے کا غالب گمان نہ ہو صرف احتمال ہو وہاں خط ارسا ل کرنے کو کافی سمجھے، اور خطوط ارسال کرکے تحقیق کرے، اور اگر اخبارات میں شائع کردینے سے خبر ملنے کی امید ہو تو یہ بھی کرے۔
    الغرض تفتیش وتلاش میں پوری کوشش کرے، اور جب پتا چلنے سے مایوسی ہوجائے تو قاضی، عورت کو چار سال تک مزید انتظار کا حکم دے، پھر ان چار سالوں کے اندر بھی اگر مفقود کا پتا نہ چلے تو عورت قاضی کے پاس دوبارہ درخواست کرے، جس پر قاضی اس کے مردہ ہونے کا فیصلہ سنا دے، اس کے بعد چار ماہ دس دن عدت گزار کر عورت کو دوسری جگہ نکاح کرنے کا اختیار ہوگا۔
    اور اگر عورت زنا کا شدید خطرہ ظاہر کرے تو ایسی صورت میں چار سال کے انتظار کا حکم ضروری نہیں، بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ شوہر کے غائب ہونے کے وقت سے اب تک کم از کم ایک سال کا عرصہ گزرچکا ہے یا نہیں؟ اگر گزر چکا ہو تو قاضی مزید مہلت دیے بغیر اس وقت بھی نکاح ختم کرسکتا ہے، اسی طرح اگر زنا میں مبتلا ہونے کا خطرہ تو نہیں، لیکن مفقود کا اتنا مال موجود نہیں جو ان چار سالوں میں اس کی بیوی کے نان و نفقہ کے لیے کافی ہو، یا بیوی کے لیے مفقود کے مال سے نان ونفقہ حاصل کرنا مشکل ہو تو اس صورت میں اگر نان ونفقہ دینے کے بغیر کم از کم ایک ماہ گزرا ہو تو قاضی نکاح ختم کرسکتا ہے۔
    واضح رہے کہ آخری ان دونوں صورتوں میں عورت عدتِ وفات کے بجائے عدتِ طلاق گزارے گی، جو قاضی کے فیصلے کے وقت سے شمار ہوگی۔

اور اگر دوسری شادی کے بعد پہلا شوہر لوٹ آئے تو  مذکورہ خاتون کا نکاح اس کے  پہلے شوہر سے بدستور قائم رہےگا، دوسرے شوہر کے ساتھ اس کا نکاح خود بخود باطل ہو جائے گا؛  اس لیے دوسرے شوہر سے فوراً علیٰحدگی لازم ہوگی۔ اور اگر اس خاتون کی دوسرے نکاح کی رخصتی بھی ہو گئی ہو تو  پہلے شوہر کو اس کے ساتھ صحبت کرنا اس وقت تک جائز نہیں ہوگا جب تک وہ دوسرے شوہر کی عدت پوری نہ کرلے۔

مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی صاحب نور اللہ مرقدہ تحریر فرماتے ہیں:

’’اس صورت میں عورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ عدالت میں دعویٰ تفریق بوجہ مفقود الخبری شوہر دائر کرے، حاکم بعد تحقیقات ایک سال کی مدت انتظار کے لیے مقرر کردے، اگر اس عرصہ میں زوجِ غائب نہ آئے تو نکاح فسخ کردے، تاریخِ فسخ سے عدت گزار کر دوسرا نکاح کرلے۔ ایک سال کی مدت مقرر کرنا ضروری ہے، ذرائعِ رسل ورسائل کا وسیع ہونا اس شرط کے خلاف نہیں ہے، اور نہ ذرائع کی وسعت اس امر کو لازم ہے کہ گم شدہ شوہر کا پتا معلوم ہوجائے کہ وہ زندہ ہے کہ نہیں،آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص کے متعلق معلوم کرنے کے لیے کہ وہ زندہ ہے یا نہیں، تمام ذرائع استعمال کرلیے جاتے ہیں اور فیصلہ کرلیا جاتاہے، لیکن بعد میں فیصلہ غلط ہوتاہے،غرض یہ کہ ایک سال کی مدت اس مصلحت کے لیے ہے کہ امکانی حد تک شوہر کے متعلق کسی نتیجہ پر پہنچاجائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم‘‘

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5 / 414):

"(ولو قضى على الغائب بلا نائب ينفذ) في أظهر الروايتين عن أصحابنا".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5 / 414):

"قلت: ويؤيده ما يأتي قريبا في المسخر، وكذا ما في الفتح من باب المفقود لايجوز القضاء على الغائب إلا إذا رأى القاضي مصلحة في الحكم له وعليه فحكم فإنه ينفذ؛ لأنه مجتهد فيه اهـ".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4 / 295):

وقال في الدر المنتقى: ليس بأولى، لقول القهستاني: لو أفتى به في موضع الضرورة لا بأس به على ما أظن اهـ

المبسوط للسرخسي ـ موافق للمطبوع (11/ 64):

"وأما تخييره إياه بين أن يردها عليه وبين المهر فهو بناء على مذهب عمر رضي الله عنه في المرأة إذا نعي إليها زوجها فاعتدت وتزوجت ثم أتى الزوج الأول حياً أنه يخير بين أن ترد عليه وبين المهر، وقد صح رجوعه عنه إلى قول علي رضي الله عنه، فإنه كان يقول: ترد إلى زوجها الأول، ويفرق بينها وبين الآخر، ولها المهر بما استحل من فرجها، ولا يقربها الأول حتى تنقضي عدتها من الآخر، وبهذا كان يأخذ إبراهيم رحمه الله فيقول: قول علي رضي الله عنه أحب إلي من قول عمر رضي الله عنه، وبه نأخذ أيضاً؛ لأنه تبين أنها تزوجت وهي منكوحة، ومنكوحة الغير ليست من المحللات، بل هي من المحرمات في حق سائر الناس".

 فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144107200135
تاریخ اجراء :28-02-2020

فتوی پرنٹ