1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. نکاح / طلاق
  4. طلاق - وقوع اور عدم وقوع

طلاق کا طریقہ کیا ہے؟

سوال

طلاق کا طریقہ کیا ہے؟

جواب

بلا وجہ طلاق دینا گناہ کا کام ہے اور اللہ کی ناراضی کا سبب ہے، اس لیے کوشش کرنی چاہیے کہ میاں بیوی کے درمیان طلاق کی نوبت نہ آئے، لیکن اگر کسی طرح نباہ ممکن نہ ہو سکے تو طلاق دینا جائز ہے، پھر طلاق دینے کا بہترطریقہ یہ ہے کہ عورت کو پاکی کی حالت میں جس میں بیوی سے صحبت نہ کی ہو، ایک طلاق رجعی دے دی جائے، ایک طلاق کے بعد  عدت کے اندر اگر چاہیں تو رجوع کرلیں اور رجوع نہ کرناچاہیں تو عدت گزرنے کے بعد عورت بائن ہوجائے گی، اور کسی اور سے نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔ اس کو شریعت میں" طلاقِ احسن" کہتے ہیں۔ ایک طلاق رجعی کے بعد عورت کی عدت گزرجائے پھرصلح کی کوئی صورت نکل آئے تو نئے مہر اور شرعی گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح بھی ہوسکتاہے۔ ایسی صورت میں آئندہ دو طلاقوں کا حق حاصل ہوگا۔

دوسرا درجہ یہ ہے کہ عورت کے ان پاکی کے ایام میں ایک طلاقِ رجعی دی جائے جن میں بیوی سے صحبت نہ کی ہو، پھر حیض گزرنے کے بعد اگلے طہر (پاکی کے ایام) میں دوسری طلاق دی جائے، پھر تیسرے طہر (پاکی کے ایام) میں تیسری طلاق دے دی جائے۔ اس کے بعد حیض گزار کر عورت حرمتِ مغلظہ کے ساتھ بائن ہوجائے گی، رجوع یا دوبارہ نکاح کی اجازت نہیں ہوگی۔

بیک وقت تین طلاقیں دینا شرعاً ناپسندیدہ ہے، اس لیے بیک وقت تین طلاقیں نہ دی جائیں۔ لیکن اگر تین طلاقیں ایک ساتھ دے دی جائیں تو  بھی واقع ہوجاتی ہیں، اورتین طلاق کے بعد رجوع یا تجدیدِ نکاح کی گنجائش بھی نہیں رہتی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 231):

"(طلقة) رجعية (فقط في طهر لا وطء فيه) وتركها حتى تمضي عدتها (أحسن) بالنسبة إلى البعض الآخر (وطلقة لغير موطوءة ولو في حيض ولموطوءة تفريق الثلاث في ثلاثة أطهار لا وطء فيها ولا حيض قبلها ولا طلاق فيه فيمن تحيض و) في ثلاثة (أشهر في) حق (غيرها) حسن وسني ....... (والبدعي ثلاث متفرقة أو ثنتان بمرة أو مرتين) في طهر واحد (لا رجعة فيه، أو واحدة في طهر وطئت فيه، أو) واحدة في (حيض موطوءة)".

فقط والله أعلم

 


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144201201238
تاریخ اجراء :14-09-2020

فتوی پرنٹ