1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

تعلیم کی مجلس کے بعد اجتماعی دعا کا حکم

سوال

 جب کوئی تبلیغی بھائی تعلیم کے بعد اجتماعی دعا کرے ،بعض حضرات کہتے ہیں کہ یہ دعا بدعت ہے ۔کیا تعلیم کی بعد دعاکرنا بدعت ہے؟۔ 

جواب

کسی بھی دینی مجلس کے اختتام پر استغفار اور دعا کا ثبوت حدیث میں ملتا ہے،ترمذی شریف کی روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ  جب مجلس سے اٹھتے تو ان الفاظ سے دعافرماتے:’’اللھم اقسم لنا من خشیتک الخ‘‘نیز حضرت انس رضی اللہ عنہ جب قرآن پاک ختم کرتے تو اپنے گھر والوں کو جمع کر کے دعا فرماتے،نیز حضور اکرم ﷺ نے جس حدیث میں اس زمانہ کی  عورتوں کو مجلس ِخیر اور مسلمانوں کی اجتماعی دعا میں شرکت کی اجازت مرحمت فرمائی تھی اس حدیث سے بھی مجالس خیر کے بعد اجتماعی دعا کا ثبوت ملتا ہے،اوربخاری شریف ۱/۱۴پر تعزیتی بیان کرنے کے بعد دعا کا ذکر ہے ،نیز مستدرک حاکم میں بھی اجتماعی دعا کا ذکر ہے۔مختصر دلائل حسبِ ذیل درج ہیں:
ترمذی شریف میں ہے:
عن ابن عمر رضی اللہ عنہ قال قلما کان رسول اﷲ ﷺ یقوم من المجلس حتی یدعو بھؤلاء الکلمات لأصحابہ :’’اللھم اقسم لنا من خشیتک الخ‘‘۔(ترمذی شریف۲/۱۸۸ )
الأذکارمیں ہے:
عن قتادۃ ؒالتابعی الجلیل الامام صاحب أنس رضی اللہ عنہ قال:کان أنس بن مالکصاذا ختم القرآن جمع أھلہ ودعا۔(الأذکار للنووی ۹۷ )

بخاری شریف میں ہے:
باب شھود الحائض العیدین ودعوۃ المسلمین:عن أیوب عن حفصۃؓ قالت کنا نمنع عواتقنا أن یخرجن فی العیدین…ولتشھد الخیرودعوۃ المسلمین الحدیث۔(بخاری شریف ۱/۴۶ )
علامہ شبیر احمد عثمانیؒ اس حدیث کے ذیل میں فرماتے ہیں:
آپ نے ارشاد فرمایا کہ عورت کوچاہئے کہ وہ مجلس ِخیر اور مسلمانوں کی دعاء میں شریک ہوں مثلا مجلس وعظ،نماز استسقاء اور کسوف اور خسوف کی نمازیں یا دعا کی اجتماعی صورت غرض عورت نیکی کے ہر موقع پر شرکت کرسکتی ہے۔ (فضل الباری شرح صحیح البخاری۲/۴۹۲)
تفسیر ابن کثیر میں ہے: 
وقولہ{واستغفروا اﷲ ان اﷲ غفوررحیم}کثیرا ما یأمراﷲ بذکرہ بعد قضاء العبادات و لھذا ثبت فی صحیح مسلم أن رسول اﷲﷺ  کان اذا فرغ من الصلاۃ یستغفر اﷲ ثلاثا۔  (تفسیر ابن کثیر۱/۲۶۰ )

مستدرک حاکم میں ہے:
عن حبیب بن مسلمۃ الفھری و کان مجاب الدعوۃ أنہ أمر علی جیش فدرب الدروب فلما أتی العدوّقال سمعت رسول اﷲایقول:لا یجتمع ملأ فیدعوبعضھم و یؤمن البعض الا أجابھم اﷲ الخ۔(المستدرک للحاکم ۳/۳۴۷ )

خلاصہ یہ ہے کہ تعلیم کی مجلس کے بعد اجتماعی دعا کرنے کی گنجائش ہے، اسے بدعت کہنا درست نہیں ہے، البتہ اس وقت اجتماعی دعا کرنے کو سنت اور لازم نہیں سمجھنا چاہیئے۔ فقط واللہ اعلم ۔


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :143909202015
تاریخ اجراء :21-08-2018

فتوی پرنٹ