1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. نکاح / طلاق
  4. خلع

شوہر کے طویل عرصہ تک دور رہنے، رابطہ نہ کرنے اور خرچہ وغیرہ نہ دینے کی بنا پر عورت کا خلع لینا

سوال

میں نے کورٹ سے خلع لی ہے، وجہ یہ ہے کہ میرے شوہر ملک سے باہر تھے، شادی کے بعد تین مہینہ ساتھ رہے، پھر واپس یو۔کے چلے گئے، اس کے بعد ایک سال بعد ایک مہینہ کے لیے آئے پندرہ دن کے لیے ، پھر واپس چلے گئے، پھر واپس نہیں آئے، چھ سال کا عرصہ گزرگیا ہے،  واپس نہیں آرہےتھے فون پر رابطہ رکھتے تھے اور خرچہ بھی بھیجتے تھے، پھر آخر وہ بھی بند کردیا کہ جاب نہیں ہے میری، اور رابطہ بھی ختم کردیا مجھے سے، اپنے والدین سے بات کرتے تھے لیکن مجھ سے  نہیں، میرے والدین نے  ان کا یہ رویہ دیکھا تو مجھے واپس بلالیا،  میرے سسرال والوں نے اپنے بیٹے کو کافی سمجھایا  کہ تم اپنی بیوی سے رابطہ رکھو تو میرے شوہر نے اپنے گھر والوں کو کہا کہ ان کا میرے ساتھ مینٹل لیول نہیں ملتا، اس وجہ سے وہ مجھ سے رابطہ نہیں رکھتا چاہتے، میں  نے اپنے والدین کے پاس آکر بھی ان کا انتظار کیا کہ شاید وہ ٹھیک ہوجائے، ایک سال کا عرصہ گزرگیا، لیکن انہوں نے کوئی رابطہ نہیں کیا، اس وجہ سے میں نے کورٹ سے خلع لی، مجھے بتائیں کہ کورٹ سے میری خلع مانی جائے گی شریعت کے مطابق؟ میں بہت پریشان ہوں!


جواب

سوال  میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعہ کے مطابق اور درست ہے تو آپ کے شوہر کا رویہ انتہائی نامناسب اور غیر معقول ہے، شوہر کے بیوی کی اجازت کے بغیر چار ماہ سے زیادہ اس سے دور رہنا جائز نہیں ہے، یہ بیوی کی حق تلفی ہے جس پر شوہر گناہ گار ہوگا، اگر کسی وجہ سے شوہر کے لیے نباہ ممکن نہ ہو  اور مسئلہ کی حل کی کوئی صورت نظر آتی ہو اور شوہر اور بیوی کے درمیان ذہنی ہم آہنگی نہیں ہے تو بیوی کے معاملہ کو لٹکانے کے بجائے شوہر  کو ایک طلاق دے کر یا خلع پر رضامندی ظاہر کے  نکاح کو ختم کردینا چاہیے، بیوی کی حق تلفی کرنا اور اس سے نہ رابطہ کرنا، نہ خرچہ دینا اور نہ ہی طلاق پر رضامند ہونا یہ مسلسل اور مستقل گناہ شوہر کے کاندھے پر ہے، اس لیے اس میں اسے مثبت فیصلہ کرنا چاہیے؛ تاکہ آخرت میں اس کا معاملہ بھی کہیں یوں لٹک نہ جائے۔

 ارشادِ  باری تعالیٰ ہے:

{فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ} [البقرة: 229]

ترجمہ: سو اگر تم لوگوں کو یہ احتمال ہو کہ وہ دونوں ضوابطِ خداوندی کو قا ئم نہ کرسکیں گے تو دونوں پر کوئی گناہ نہ ہوگا اس (مال کے لینے دینے) میں جس کو دے کر عورت اپنی جان چھڑالے۔ (از بیان القرآن)

  باقی جہاں تک  خلع لینے کا تعلق ہے تو خلع  مالی معاملات کی طرح  ایک مالی معاملہ ہے، جس طرح دیگر  مالی معاملات  معتبر ہونے کے لیے جانبین ( عاقدین) کی رضامندی ضروری ہوتی ہے، اسی طرح خلع  معتبر ہونے کے لیے بھی زوجین ( میاں بیوی) کی رضامندی ضروری ہوتی  ہے، لہذا خلع کے لیے شوہر کی رضامندی اور اجازت ضروری ہے، نیز طلاق دینا بھی شوہر کا حق ہے،  اگر شوہر کی اجازت اور رضامندی کے بغیر  بیوی  عدالت سے خلع یا طلاق لے لے اور عدالت اس کے  حق میں یک طرفہ خلع کی  ڈگری جاری کردے تو شرعاً ایسا خلع معتبر نہیں ہوتا، اس سے نکاح ختم نہیں ہوتا، اور ایسی صورت میں عورت کے لیے دوسری جگہ نکاح کرنا بھی جائز نہیں ہوگا۔ ہاں اگر شوہر خلع پر رضامندی ظاہر کردے تو پھر یہ خلع معتبر ہوجاتا ہے۔ 

لہذا اگر آپ کے شوہر نے اس خلع پر رضامندی ظاہر کردی  تھی تو آپ کا خلع معتبر ہوگیا ہے، لیکن اگر انہوں اس پر رضامندی ظاہر نہیں کی تو یک طرفہ طور پر خلع معتبر نہیں ہوتا۔

البتہ چوں  کہ بعض مخصوص حالات میں قاضی  شرعی کو یہ  اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ  شوہر کی اجازت کے بغیر بھی  میاں بیوی میں تفریق کرسکتا ہے، اس لیے کہ   نکاح کے بعض حقوق ایسے ہوتے ہیں  جو  نکاح کے مصالح  اور مقاصد میں سے ہیں اور قضاءً ان کی ادائیگی شوہر پر لازم ہوتی ہے،  اگر شوہر ان کی ادائیگی نہ کرے تو بزورِ عدالت انہیں وصول کیا جاسکتا ہے، مثلاً بیوی کا نان ونفقہ  اور حقوق زوجیت ادا کرنا وغیرہ،  اگر شوہر ان کی ادائیگی سے عاجز ہو تو عورت کو طلاق دے دے، ایسی صورت میں اگر وہ طلاق دینے سے انکار کرتا ہے یا شوہر طلاق دینے کے قابل نہیں ہے تو قاضی اس کا قائم مقام بن کر میاں بیوی میں تفریق کرسکتا ہے۔

 لہذا اگر شوہر اپنے رویہ میں تبدیلی نہیں لاتا اور اپنا گھر بسانے پر تیار نہیں ہوتا،  اپنے بیوی بچوں کے  نان ونفقہ  دینے پر راضی نہیں ہوتا   تو ایسی صورت میں آپ کو اور آپ کے گھر والوں   کو چاہیے کہ خاندان کے  معزز لوگوں کے سامنے یا محلے کی پنچایت کے سامنے اس معاملہ کو رکھیں، اور ان کے تعاون سے اس مسئلہ کا حل نکالا جائے، اور اگر شوہر  پھر بھی اپنی ضد پر اڑا رہے، اور اپنے رویہ میں  تبدیلی نہیں لائے تو سائلہ  اپنے  شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرکے کسی طرح طلاق حاصل کرلے، اور اگر وہ طلاق دینے پر رضامند نہ ہو تو  باہمی رضامندی سے خلع کا معاملہ کرے،  اور خلع میں شوہر کے لیے بدلِ خلع یعنی خلع کے عوض مال لینا جائز نہ ہوگا،  تاہم لینے کے باوجود خلع ہوجائے گا اور نکاح ختم ہوجائے گا۔

لیکن اگر شوہر نہ طلاق دے اور نہ ہی خلع  دینے پر رضامند ہو اور بیوی کے ساتھ نباہ پر اور اس کو نان ونفقہ دینے پر بھی تیار نہ ہو تو   سخت مجبوری کی حالت میں  عدالت سے تنسیخِ نکاح کرایا جاسکتا ہے،  جس کی صورت یہ ہے کہ  عورت اپنا مقدمہ مسلمان جج کے سامنے  پیش کرے، اور متعلقہ جج  شرعی شہادت وغیرہ کے ذریعہ  معاملہ کی  پوری تحقیق کرے، اگر عورت کا دعویٰ  صحیح ثابت ہوجائے کہ اس کا شوہر  باوجود  وسعت کے  خرچہ نہیں دیتا تو اس کے  شوہر سے کہا جائے کہ  عورت کے حقوق ادا کرو یا  طلاق دو ،  ورنہ ہم تفریق کردیں گے،  اس کے بعد بھی اگر  وہ کسی صورت پر عمل نہ کرے تو قاضی یا شرعاً جو اس کے قائم مقام ہو عورت پر طلاق واقع کردے۔ (ماخوذ از حیلہ ناجزہ، ص؛73،74/ ط؛ دارالاشاعت)  فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144201200648
تاریخ اجراء :01-09-2020

فتوی پرنٹ